صدر ٹرمپ ایران میں مزید اموات اور تباہی نہیں چاہتے

صدر ٹرمپ ایران میں مزید اموات اور تباہی نہیں چاہتے

واشنگٹن/یو این آئی// وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران میں مزید اموات اور تباہی نہیں دیکھنا چاہتے ، ایرانی قیادت کو چاہیے کہ شکست تسلیم کرتے ہوئے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی خواہشات کو ختم کر دے۔ چہارشنبہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی اہداف کو تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے ۔ ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق سوالات پر کیرولائن لیوٹ نے وضاحت کی کہ وہ مفروضوں پر مبنی سوالات کے جوابات نہیں دے سکتیں اور مذاکرات میں شامل شخصیات کی معلومات حساس ہونے کی وجہ سے فوری طور پر فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ انھوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ترجیحات میں ایران میں ایسی قیادت دیکھنا شامل ہے جو امریکہ کے ساتھ دشمنی پر مبنی اقدامات نہ کرے ۔ کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت ایسی نہیں ہونی چاہیے جو امریکہ کو موت کی دھمکیاں دے ۔ میڈیا سے بھی تاکید کی گئی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پر مفروضوں پر مبنی خبریں پھیلانے سے گریز کیا جائے ۔ پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائیوں کا بھی تفصیلی ذکر کیا گیا۔ کیرولائن لیوٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے دفاعی اور جنگی صلاحیت کو محدود کرنے کیلئے سرگرم ہے ۔ گزشتہ تین ہفتوں میں ایران کے تقریباً 9000 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فی صد کمی آئی ہے ۔ ایران کے 140 نیوی جہازوں اور 50 سمندری بارودی کشتیوں کو تباہ کیا گیا، جب کہ زیر زمین جنگی ساز و سامان، جس میں اینٹی میزائل اور لانچنگ سسٹمز شامل تھے ، پر 5000 پاؤنڈ وزنی بم گرایا گیا۔ ان کارروائیوں کو ورلڈ وار ٹو کے بعد نیوی کے خلاف سب سے بڑی جنگی کارروائی قرار دیا گیا ہے ۔ کیرولائن لیوٹ کے مطابق امریکہ اور اتحادیوں کیلئے ایران سے لاحق خطرات میں واضح کمی آچکی ہے ، ایران کا جوہری ہتھیار بنانے کا منصوبہ ختم ہو چکا ہے اور اس کی دفاعی صلاحیت محدود ہو رہی ہے ۔ آبنائے ہرمز میں موجود خطرات کو ختم کرنے کیلئے امریکی فوج مکمل فوکس کے ساتھ سرگرم ہے ۔