ebrahim raisi

صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات اور وہ سوالات جو معاملے کو مزید الجھا رہے ہیں

نیدا سنج

ایران کی دوسری اہم ترین شخصیت یعنی سابق صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر تقریباً 16 گھنٹے تک لاپتہ کیسے رہا؟ اور یہ ہیلی کاپٹر یا اس کا ملبہ کہاں موجود ہے، ایران کے سکیورٹی ادارے 16گھنٹے تک اس کا کوئی سراغ کیوں نہ لگا سکے؟
سابق صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے چند روز بعد بھی نہ صرف اِن سوالات کا جواب واضح نہیں ہے بلکہ اس ضمن میں سامنے آنے والے تازہ بیانات اور تصاویر نے الجھنوں اور سوالات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کیا ہیلی کاپٹر فنی خرابی کی وجہ سے گِرا؟ کیا اچانک کاک پٹ کے اندر کوئی ایسا غیر متوقع واقعہ ہوا جو اس حادثے کا سبب بنا؟ کیا موسم کی صورتحال یعنی شدید دھند اور گہرے بادل اس حادثے کی وجہ تھے؟ کیا یہ ہیلی کاپٹر فضا ہی میں تباہ ہو چکا تھا یا زمین پر ہارڈ لینڈنگ کے دوران یا اس کے بعد؟ کیا یہ کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تھا؟ ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے اور اس کے ملبے کی نشاندہی ہونے کے دوران یعنی 16 گھنٹوں میں کیا ہوتا رہا؟
ہم اِن میں سے کسی بھی سوال کا جواب یقینی طور پر نہیں جانتے کیونکہ جواب کے لیے ماہرین کی آزادانہ تحقیقات کی ضرورت ہے جو کہ ایران کی قومی سلامتی کے حالات کے پیش نظر ناممکن ہے۔
جنوری 2020میں ہونے والے معروف امریکی کھلاڑی کوبی برائنٹ کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی ہی مثال لے لیں، نیشنل ایوی ایشن سیفٹی کمیٹی کی تحقیقات کے مکمل نتائج ایک سال سے بھی زیادہ عرصے بعد فروری 2021 میں شائع کیے گئے تھے۔ تاہم اس دوران من گھڑت، متضاد اور جھوٹ پر مبنی معلومات نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔
صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹر واقعے کی پہلی رپورٹ میں ایران کے جنرل ہیڈ کوارٹر نے ’بلندی پر پہاڑ کے ساتھ ٹکراؤ‘ کے نتیجے میں آگ لگنے کے علاوہ تمام دیگر امکانات کو رد کیا ہے۔
اس رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ’ہیلی کاپٹر مقررہ راستے پر محو پرواز تھا اور حادثے سے ڈیڑھ منٹ پہلے تک یہ کانوائے میں موجود دو دیگر ہیلی کاپٹرز کے ساتھ رابطے میں تھا، ہیلی کاپٹر کی باڈی پر گولیوں یا اس جیسی چیزوں کے کوئی نشانات نہیں دیکھے گئے۔ کنٹرول ٹاور کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے ہونے والے رابطے میں بھی کسی مشتبہ گفتگو کی نشاندہی نہیں ہوئی۔‘ بی بی سی فارسی نے اس ضمن میں اہم سوالات کے جواب جاننے کے لیے اس شعبے کے چند ماہرین سے بات کی ہے۔
ان ماہرین میں فلوریڈا کے ایمبری ریڈل سکول آف ایوی ایشن میں ایروناٹیکل سائنسز کے شعبے سے منسلک اسسٹنٹ پروفیسر ریمنڈ شوماکر، ایرانی فوجی ہیلی کاپٹروں کے سابق پائلٹ مسعود صدیقیان، انسٹرکٹر پائلٹ اور افریقہ میں خصوصی پروازوں کے ڈائریکٹر نوید غدیری اور واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے دفاعی سلامتی کے تجزیہ کار فرزین ندیمی شامل ہیں۔
ان تمام ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ ہیلی کاپٹر حادثے سے متعلق موجودہ معلومات حتمی رائے دینے کے لیے ناکافی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بعد میں سامنے آنے والے نئے شواہد نئے جواب دے سکتے ہیں یا مزید سنگین سوالات اٹھا سکتے ہیں۔
کیا پہاڑ سے ٹکرانا ہی ہیلی کاپٹر میں سوار مسافروں کی موت کی وجہ بنا؟
ایران کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق عام خیال یہی ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر دورانِ پرواز ایک پہاڑ سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں صدر ابراہیم رئیسی اور ایرانی وزیر خارجہ سمیت تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔
جنوبی افریقہ میں تربیت یافتہ ماسٹر پائلٹ اور امریکہ کے شہر سان ڈیاگو سے تعلق رکھنے والے نوید غدیری نے حادثے کے بعد ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کی سامنے آنے والی تصاویر کا موازنہ ایسے ہی ایک حادثے سے کیا ہے جس میں طیارے کی نوک یا دُم پہاڑ سے ٹکرائی ہو جس کے بعد وہ ڈھلوان پر 20 میٹر تک گھسٹتا چلا گیا تھا۔ تاہم پہاڑ کی بیرونی سطح پر اس حادثے کے اثرات کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے، جسے آزادانہ تحقیق سے ہی واضح کیا جا سکتا ہے۔
پہلوی دور حکومت میں 20 سال تک ایرانی ہیلی کاپٹر کے پائلٹ رہنے والے مسعود صدیقیان پوچھتے ہیں ’اگر یہ تیز رفتاری سے پہاڑ کے اوپری حصے سے ٹکرایا تو یہ کم اونچائی پر پیچھے کیوں چلا گیا اور ہیلی کاپٹر کی دم اونچائی پر کیسے رہ گئی؟ یا اگر یہ کسی پہاڑ سے ٹکرا کر اور پائلٹس کے کنٹرول سے باہر ہو کر بے قابو ہوا اور چاروں طرف گھومنے لگا تو اس کی دم ٹھیک ٹھاک حالت میں کیوں موجود ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ’ہیلی کاپٹر ہوائی جہاز کی طرح نہیں ہوتا اور اس پر نصب مضبوط روٹر بلیڈ (پنکھا) کی وجہ سے قدرتی طور پر اسے پاس موجود درختوں کو تباہ کر دینا چاہیے تھا۔‘
ایک اور تجزیے میں واشنگٹن انسٹیٹیوٹ کے دفاع اور سلامتی کے ماہر فرزین ندیمی کا کہنا ہے: ’میرے خیال میں ہیلی کاپٹر براہ راست پہاڑ سے ٹکرا گیا جبکہ پائلٹ کو یا تو معلوم نہیں تھا کہ وہ پہاڑ سے ٹکرا رہا ہے یا اس نے پہاڑ کو سامنے دیکھ کر ہیلی کو اوپر اٹھانے اور پہاڑ پر سے گزرنے کی کوشش کی جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکا۔ یا پھر پائلٹ نے صورتحال دیکھتے ہوئے ہیلی کاپٹر کی ناک کو نیچے کی طرف رکھتے ہوئے پہاڑ سے ٹکرا دیا جس کے نتیجے میں یہ تیزی سے نیچے کی طرف مڑ گیا اور اس کی باڈی پلٹ گئی جس کے نتیجے میں ہیلی کی دُم اُوپر رہی اور پھر کیبن میں آگ لگ گئی۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ایک عینی شاہد کا بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہیلی کاپٹر پہاڑ سے ٹکرا کر نیچے گر گیا تھا۔ فرزین ندیمی اس عینی شاہد کے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جو کہ ایک کان کن تھا اور اخبار میں اس کا بیان ’ہیلی کاپٹر حادثے کا ایک گواہ‘ کے طور پر شائع کیا گیا۔ ایک اور امکان یہ ہے کہ جب ہیلی کاپٹر پہاڑ سے ٹکرایا تو اس کا انجن اور پنکھے بند ہو گئے۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس کی وجہ کیا تھی؟
ہیلی کاپٹر کیوں جل گیا؟
ایران کی مسلح افواج کے جنرل ہیڈ کوارٹر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ہیلی کاپٹر میں پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی تھی۔ ماضی میں اس نوعیت کے واقعات کی مثالیں موجود ہیں جب ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثات کے بعد ہیلی کے کیبن میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی فوجی ہیلی کاپٹروں کے سابق پائلٹ مسعود صدیقیان کا کہنا ہے کہ ’اگر حادثے کے نتیجے میں لگنے والی آگ اتنی شدید تھی کہ کاک پٹ میں زیادہ تر مسافر اور خاص طور پر پائلٹ شدید جل گئے، تو اس صورت میں جائے حادثہ سے سامنے آنے والی چند تصاویر میں چند اشیا کو محفوظ حالت میں کیوں دیکھا جا سکتا ہے اور ہیلی کاپٹر کے چند دیگر حصے جلنے کے نتیجے میں سیاہ کیوں نہیں ہوئے؟‘
کیا اونچائی پر ہونے والا دھماکہ حادثے کا سبب ہو سکتا ہے؟
اس بات کا فی الحال کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹر میں دوران پرواز کوئی دھماکہ ہوا۔
لیکن مسعود صدیقیان کا کہنا ہے کہ ’کاک پٹ میں کنٹرولڈ یعنی کسی چھوٹے دھماکے کے امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ شاید ایک ایسا دھماکہ جس نے پائلٹس سے ہیلی کاپٹر کا کنٹرول چھین لیا ہو۔‘
صدیقیان کا کہنا ہے ’کاک پٹ کی مکمل تباہی اور باقی مسافروں سے زیادہ پائلٹوں کی لاشوں کا جلنا اور چند میٹر کی دوری سے ملنے والی ہیلی کاپٹر کی دُم۔۔۔ ہو سکتا ہے اس سب کی وجہ کیبن میں کنٹرول شدہ دھماکہ ہو۔ لیکن یہ محض ایک اندازہ ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔‘
کیا موسم کے متعلق کوئی انتباہ جاری کیا گیا تھا؟
سابق صدر ابراہیم رئیسی کے دفتر کے سربراہ غلام حسین اسماعیلی، جو سابق صدر کے کانوائے میں موجود دو ہیلی کاپٹروں میں سے ایک پر سوار تھے، نے ایرانی ٹی وی پر حادثے کے بعد دیے گئے اپنے پہلے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’آسمان صاف تھا مگر پھر بادل سامنے آ گئے۔‘
ایران کی محکمہ موسمیات کے مطابق اُس روز تیز ہوا، طوفان یا گہرے بادلوں کی کوئی پیشگوئی نہیں تھی۔ تاہم حادثے کے دن کی سیٹلائٹ تصاویر اس علاقے میں بادلوں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں اور بی بی سی ویریفائی کی ٹیم نے بھی تصدیق کی ہے کہ جس علاقے سے پرواز شروع ہوئی تھی وہاں موسم بہتر تھا اور آہستہ آہستہ، جیسے ہی یہ ہیلی کاپٹر سنگن مائن کے علاقے کے قریب پہنچے، بادلوں گہرے ہونا شروع ہو گئے۔
آسمان پر بادلوں اور وادی میں شدید دھند کے ساتھ ساتھ، حکام کے درمیان اس بات پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا موسمی حالات ’پرواز کے لیے مناسب‘ تھے یا نہیں۔
ابراہیم رئیسی کے دفتر کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پرواز کے لیے موسم خراب نہیں تھا اور انھیں کوئی وارننگ نہیں ملی تھی۔ لیکن محکمہ موسمیات کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر عبدالرسول حسن پور نے انصاف نیوز کو بتایا کہ حادثے کے دن صدر اور ان کے ساتھیوں کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر کو ’اورنج وارننگ‘ دی گئی تھی۔
ایران کے موسمیاتی نظام میں اورنج وارننگ شدت کے لحاظ درمیانے درجے کی وارننگ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خراب موسم کے منفی اثرات اور ممکنہ نقصانات کا امکان ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کی رپورٹ پر تنازع کوئی نیا نہیں ہے۔ فروری 2018میں ایران کے شہر تہران سے خرم آباد جانے والی ایران ایئر ٹور فلائٹ 956کے کریش ہونے کے معاملے میں بھی یہ مسئلہ پیدا ہوا تھا۔
شریف یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس وقت سول ایوی ایشن انڈسٹری کی فیکلٹی کے سربراہ محمد باقر ملائیک نے ایک تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’ملک کے محکمہ موسمیات نے غلطی سے ایک رات پہلے کی موسم کی رپورٹ اور بادلوں کی پوزیشن ایوی ایشن آرگنائزیشن کو بھیجی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکام نے محکمہ موسمیات کی اس غلطی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حادثے کی وجہ پائلٹ کی غلطی کو قرار دیا تھا۔
ابر آلود آسمان ہیلی کاپٹر کے لیے کتنا خطرناک ہے؟
ابر آلود موسم میں پرواز کرنا اتنا خطرناک نہیں ہے لیکن اگر بادل کسی پہاڑ کے قریب ہوں یا پائلٹ کی حدِ نگاہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہوں تو یہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ریمنڈ شوماکر، ایک پائلٹ اور ایمبری ریڈل میں ایروناٹیکل سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ریمنڈ امریکہ کی سب سے بڑی پائلٹ ٹریننگ یونیورسٹیوں میں سے ایک کے ساتھ منسلک ہیں۔ وہ کسی بھی پہاڑ کے قریب بادلوں اور دھند کی موجودگی کو پائلٹوں کے لیے سب سے مہلک ’مقام‘ سمجھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’بغیر کسی پیشگی اطلاع اور منصوبہ بندی کے بادلوں میں گھرے پہاڑوں کے قریب جانے والے پائلٹ کے پاس اس صورتحال سے نکلنے اور مستحکم اور محفوظ موسمی حالات تک پہنچنے کے لیے صرف 56 سیکنڈ کا وقت ہوتا ہے، بصورت دیگر اس کا نتیجہ خطرناک نکل سکتا ہے۔‘
شوماکر نے حالیہ حادثے کے بارے میں براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
تاہم شائع شدہ اعداد و شمار کے مطابق ’اونچائی پر بادلوں کے علاوہ، دیگر حالات بھی پائلٹ کے کام کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔‘ پہاڑیوں میں موسم کی بڑی تبدیلیوں اور مختلف سمتوں سے چلنے والی ہواؤں اور ’بھاری کارگو‘ اور عملے سمیت مسافر یا بھاری سامان بھی ہیلی کاپٹر کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔
’یہ وہ عوامل ہیں جن پر پرواز کے آغاز میں غور کرنا چاہیے اور ان کو نظر انداز کرنے سے کئی فضائی حادثات رونما ہو چکے ہیں۔‘
ان کے مطابق ٹیک آف کے وقت بیل ہیلی کاپٹر کا زیادہ سے زیادہ وزن 5080 کلوگرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہوا کی رفتار، درجہ حرارت اور اونچائی وہ عوامل ہیں جو 5080 کلوگرام کے معیار کو بڑھا اور گھٹا سکتے ہیں۔ تاہم ایسا نہیں لگتا کہ آٹھ مسافروں اور پٹرول کی پوری صلاحیت کے باوجود ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کا وزن مناسب حد سے زیادہ تھا۔ ابھی تک یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ بادلوں کی موجودگی حادثے کا سبب بنی تاہم یہ کریش کے بارے میں مضبوط امکانات میں سے صرف ایک ہے۔
ہیلی کاپٹر ’تجویز کردہ‘ بلندی پر کیوں نہیں تھا؟
ابراہیم رئیسی کے دفتر کے سربراہ کی وضاحت کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ کم از کم جب بادلوں سے سامنا ہوا تو صدر کے کانوائے میں موجود ہیلی کاپٹر ’کم سے کم تجویز کردہ اونچائی پر نہیں تھے۔‘ ہوا بازی کے عمومی اصولوں اور خاص طور پر یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کے ضوابط کے مطابق (جن پر ایران بھی عمل کرتا ہے) ہیلی کاپٹر کو اپنے مقررہ راستے پر موجود کسی بھی بلند ترین مقام سے تقریباً 350 میٹر اوپر پرواز کرنا چاہیے۔
جیسا کہ ایران کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر رئیسی کی پرواز کا راستہ تبدیل نہیں ہوا تھا، تو پائلٹ جانتا تھا کہ وہ کس بلندی پر پرواز کرنے والا ہے اور اس کے راستے میں کیا رکاوٹیں اور بلند مقامات ہوں گے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ پرواز کے آغاز سے ہی پائلٹس کے علم میں ہو گا دوران پرواز زمین کے سب سے اونچے مقام کی اونچائی کتنی ہے اور ایسی صورت حال میں جب وہ اپنے سامنے پانچ کلومیٹر سے زیادہ نہیں دیکھ سکتے، تو ان کے ہیلی کاپٹر کی اونچائی اس بلند ترین مقام سے کم از کم 350 میٹر اوپر ہونی چاہیے۔ ان حالات میں موسم کی پیش گوئی اور ماحول کے ساتھ ساتھ altimeter اور حساب کے دوسرے طریقہ کار بہت اہم ہو جاتے ہیں۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انتہائی اہم مسافروں کو درپیش سکیورٹی مسائل یا پائلٹ کی جانب سے ہیلی کاپٹروں کی صلاحیت یا شاید وادی میں بادلوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاع نہ ملنا یا غلط معلومات ملنے کے باعث ہیلی کاپٹر کے دوسرے پائلٹ (جو اس سفر کے کمانڈر بھی تھے) نے ایسا فیصلہ کیا کہ پرواز کی سطح کو نیچا رکھا جائے۔اُن کے مطابق ’کانوائے میں موجود ہیلی کاپٹر نمبر ایک، جس میں اینٹینا اور موسمیاتی ریڈار لگا ہوتا ہے، نے پہاڑ پر گہرے بادلوں کے بارے میں ابراہیم رئیسی کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر نمبر دو کو اطلاع دی ہو گی، شاید ایسا ہوا ہو لیکن ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے۔‘