دور دراز علاقوں میں صحت افزاء مقام آبی پناہ گاہیں کڑے دامنوں میں تبدیل جب کی ٹریکنگ کرنے والوں کی طرف سے پالیتھین کے استعمال نے ماحولیات کو خطرہ پیدا کردیا۔وسطی ضلع گاندربل کے سونہ مرگ علاقے میں ماحولیات کی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کے باعث گلیشرتیزی کے ساتھ پگل رہے ہے ۔کشمیر وادی میں یوز ان تھرو پلاسٹک پالیتھین لفافوںپرعائدپابندی زبانی جمع خرچ کے سوااو رکچھ نہیں ہے ۔ وسطی ضلع گاندربل کے سونہ مرگ ،ناگر ناگ اور وادی کشمیرکے پہاڑی علاقوں میںموجود صحت افزاء مقام آبی پناہ گاہیں یوز اِن تھر وپلاسٹک او رپالیتھین لفافوں کے استعمال کے باعث کوڑے دانوں میںتبدیل ہوکرہ گئے ہے ا س بات کاانکشاف ہوا کہ ٹریکنگ پرجانے والے ملکی او رغیرملکی سیاح اور سیالانیوں نے قوائدضوابط کی دھجیاں اڑائی گئی ہے او رایسے افرا دکی جانب سے بڑے پیمانے پریوز اِن تھر وپلاسٹک پارلیھتین لفافے استعمال کئے انہیں ٹریکنگ کے دوران ٹھکانے لگانے یاانہیںضائع کرنے کے لئے کسی بھی طرح کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ماہرین نے اس بات پر فکروتشویش کااظہارکیاکہ ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی یہ بے حسی جان لیوا ہوسکتی ہے ۔انہوں کہاسونہ مرگ کے گلیشر تیزی کے ساتھ پگل رہے ہے سونہ مرگ کے میدانوں میں اب گھاس نہیں اُگ رہی ہے ۔ندی نالے تگیانی پرآ رہے ہے جسکی وجہ گلوبل وارمنگ ہے آبی پناہ گاہیں دلدلوں میں تبدیل ہوتی جارہی ہے ۔ماہرین نے کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے پالیتھین او ریوز اِن تھر ولفافوںپرعائد پابندی کا حکم نامہ زبانی جمع خرچ کے سواکچھ بھی ثابت نہیں ہوا ۔بڑے شہروںقصبوں میں جسطرح سے کھلے عام ان چیزوں کااستعمال کیاجارہاہے صحت افزاء مقام ا ٹٹریکنگ پرجانے والے تو سرکارکی نظروں سے اوجھل ہوکران چیزوںکااستعمال کرتے ہیں۔ماہرین نے سرینگرمیونسپل کارپوریشن او ردوسرے بلدیاتی اداروں پرالزام لگایاکہ وادی کشمیرمیں ان اشیاء کے ڈیلر کس طرح سے اس غیرقانیونی دھندے کوفروغ دے رہے ہے ا اورنتظامیہ خاموش بیٹھی ہے یہ غو رکرنے کی ضرور ت ہے در پردہ کیاہورہاہے اسکوسامنے لایاجاناچاہئے۔










