نرگس امجد
برسوں سے اردو ادبی حلقوں میں جہاں پریم ناتھ دھر’حامدی کشمیری‘مخمور بدخستی، نورشاہ اور حسن ساہوؔ جیسے افسانہ نگار درخشاں ستاروں کی طرح نظر آتے ہیں وہیں نئی پود میں معروف فکشن نگار شیخ بشیراحمد بھی اِسی کہکشاں میں شامل ہیں۔
شیخ بشیراحمد کا دوسرا افسانہ مجموعہ ’’کلی کی بے کلی‘‘2014-15میں چھپ چُکا ہے۔ جسے کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ادارے کی جانب سے مالی معاونت کی گئی ہے۔ یہ افسانہ مجموعہ بس افسانوں اور افسانچوں پر مشتمل156صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اسی مجموعہ کے چند نمائندہ افسانے یوں ہیں۔یہ کیسی خلِش، سندور کی لکیر، ڈل کے باسی، سنگ ناتراشیدہ، کلی کی بے کلی، حرف ناتراشیدہ، دیر ہے تو بس اُن کے آنے کی، گُل کہاں ۔بہار کہاں۔آشیانہ کہاں،یہ دھواں کہاں سے اُٹھتا ہے اور دہشت گرد کون، ہر افسانے پر تبصرہ کرنا ناممکن اور ناگریز ہے ۔لہذا میری رائے یہ ہے کہ اِسی کتاب کو خرید کر لطف اُٹھا سکتے ہیں۔
اتنا بھی بتادئوں کہ جن قارئین کرام نے کتاب پڑھی ہے اُنہوں نے اسی کے معیار اور خوبیوں کو نہ صرف پسند کیا ہے ۔بلکہ داد تحسین بھی دی ہے۔ اُن کا تیسرا افسانوں کا مجموعہ’’شیشے کی دیوار‘‘2016-17میں چھپ کر آگیا ہے۔ اِسی کتاب کی طباعت کے لئے جموں وکشمیر کلچر اینڈ لینگویج نے مالی امداد فراہم کی ۔ کتاب کا جزب نظر خوبصورت اور قیمت بھی واجبی ہے۔ اس مجموعہ میں تقریباً32افسانے اور افسانچے شامل ہیں اور اسی کے علاوہ مُلک کے مختلف معروف قلمکاروں اور دانشوروں کے تذکرے بھی جو انہوں نے افسانوی مجموعہ ’’کلی کی بے کلی‘‘ پرلکھے ہیں ۔کُل ملاکر یہ مجموعہ بھی157صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔
اِسی مجموعہ میں جن افسانوں کو منتخب کیا گیا ہے وہ سب اپنے اطراف کی بکھری زندگی کے تلخ حقائق بھری کہانیوں اور چشم دید واقعات پر مبنی ہیںجنہیں بڑی خوبصورت انداز میں مختصر وجامع الفاط کا جامہ پہنا کر قرطاس پر اُتارا گیا ہے۔ یہ سب افسانے معنوی اور مصوری لحاظ سے نہ صرف معیار کی کسوٹی پر پورے اُترتے ہیں بلکہ ادب برائے زندگی کی نمائندگی کرتے بھی نظر آتے ہیں اور ایک لحاظ سے ایک دہکتے انگارے کی طرح ہیں۔ کتاب میں چند افسانے خاص طور پر جو پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں اِن میں ’’یہ کیسی صبح‘‘’’دھوئیں کی تحریر‘‘، ’’شیشے کی دیوار‘‘۔’’چھوٹاقد‘‘۔ ’’مغرور قیدی‘‘۔’’تار تار پیرہن‘‘۔’’بدلتے چہرے‘‘۔’’پانی کا سایہ‘‘۔ ’’آفر‘‘۔ ’’ہاف ریٹ‘‘۔وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
لہذا اردو زبان کی بقاوترجیح اور قلم کار کی حوصلہ افزائی کے لئے ایسی کتابیں خرید کر پڑھنی چاہیے تاکہ اپنے ذوق کے ساتھ ساتھ قومی حق بھی ادا ہوسکے۔اِن کا چوتھا افسانوی مجموعہ’’دل کا آئینہ‘‘ طباعت کے مرحل سے گزررہا ہے اور عنقریب چھپ کر آجائے گا۔اِنشاء اللہ ُ تعالیٰ۔۔۔










