حسن ساہوؔ
دُنیا کے ہرواقعے کی اہمیت اس کے مقصد سے وابستہ ہواکرتی ہے۔ مقصد میں جس قدر پاکیزگی اور ذاتی اغراض سے بے تعلقی ہوگی اتنا ہی اس کو سرحد تکمیل تک پہنچانے والا ہر قدم لائق تحسین ہوگا۔ تاریخ میں بہت سے ایسے واقعات ملیں گے جو اپنے خاص کیفیات کی بنا پر کافی اہمیت رکھتے تھے لیکن وہ تاریخ کے صفوں میں ممتاز ونمایاں جگہ نہ پاسکے کیوں کہ امتیازی حالات کے باوجود ان واقعات کی بنیادوں میں مقصد کی پاکیزگی کارفرمانہ تھی۔
دراصل دُنیا کا ہر ایسا واقعہ جس کا مقصد پاکیزہ ہو اور اس کی خاص غرض بشریت وانسانیت کی بے لوث خدمت ہو وہ تاریخ کے صفحات سے کبھی محو نہیں کیا جاسکتا۔ اس گراں مایہ جو ہر کو رہزن انسانیت کے ہاتھوں تباہ وبرباد دیکھ کر اس کے تحفظ کیلئے کوئی قربانی پیش کرے تو اس کا اس راہ میں اٹھنے والا ہر قدم دُنیا پر نہ ختم ہونے والا احسان گردانا جائے گا اور اس طرح کی بے غرض اور بے لوث قربانی کی خاص طبقہ، قوم یا ملت تک محدود نہ ہوگی۔
حضرت امام حسینؑ نواسہ رسول اکرم ﷺ نے کربلا کے میدان میں آج سے تقریباً چودہ سو برس قبل جو کچھ کردکھایا اس کا مقصد بھی دراصل وہی تھا جو اوپر پیش کیا گیا ہے۔ اس لئے لازمی ہے کہ امام عالی مقام ؑ کے عظیم وبے نظیر قربانی کے اثرات صرف سرزمین عراق اور اسلام کے پرستاروں تک ہی محدود نہیں رہ سکتے تھے۔ گویا اثرات کے لحاظ سے امام حسینؑ کی قربانی کا دارہ ان تمام حدود تک حاوی ہوگیا جہاں جہاں انسانیت کا وجود نظر آتا ہو۔
انسانیت ایک بین الاقوامی مقصد ہے اور اس کا کسی خاص دور سے واسطہ نہیں۔ اسی طرح ہر زمانے میں ضمیر فروشی، قوم فروشی، استبداد وجبر، حقوق تلفی، کپٹ ، جعل سازی، جھوٹ اور بے حیائی جیسے افعال بد کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ تاریخ اسلام کا غائرانہ طور جائزہ لیا جائ تو علمیت ہوگی کہ یزید کے دور میں یہ تمام بدافعال آئین حکومت میں داخل ہوگئے تھے۔ حضرت امام حسین ؑ نے محسوس کیا کہ انسانیت خطرے میں ہے،اس لئے حسینؑ جیسے مجسمہ انسانیت نے فیصلہ کرلیا کہ اپنے ن فس کو خطرے میں ڈال کر انسانیت کو بچالینا انسان کامل کی سبب سے بڑی خدمت ہوسکتی ہے۔ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے واسطے امام حسین ؑ نے اپنے نانا جان محمدمصطفےٰؐ کے مقدس مزار سے جدائی اختیار کرلی۔ بابا شیر خدا کی قبر کوچھوڑا اور ماں فاطمہؓ کی لحد سے جدا ہوکر کربلا کا رُخ کیا۔ الغرض امام حسینؑ نے انسانیت کی کشتی کا ناخدا بننے کا مضمم ارادہ کرلیا۔ ان کے ہمراہ چند بچے اور چند خواتین بھی تھیں۔
ادھر یزید نے اسلامی قدروں اور انسانیت کو ختم کرنے کیلئے کمر باندھ لی اور ایک لشکر کثیر کو جس پر حیوانیت کا غلبہ تھا مقابلہ کیلئے آگے کردیا۔ اس حق وباطل کی جنگ میں پیغمبر آخرزماں محمدمصطفیٰ کے نواسے امام حسینؑ نے خداوند عالم کے پسندیدہ دین اسلام اور انسانیت کی بقاء کی خاطر میدان کربلا کے تپتے میدان میں روز عاشورہ سب کچھ راہ حق میں قربان کردیا۔
امام حسین ؑ نے کیا کچھ برداشت نہیں کیا، کٹر یلجوان بیٹے علی اکبرؑ کو برچھی لگتی دیکھی، ننھے مجاہد علی اصغرؑ کو تیر کھاتے دیکھا۔ برابر کے بھائی عباسؑ کے شانے کٹتے ہوئے اور اصحاب باوفا کو جام شہادت سے سیراب ہوتے دیکھا۔ لیکن یہ گوارہ نہ کیا کہ انسانیت فنا ہوجائے۔ دُنیا پر یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ جو غاریزید نے انسانیت واسلامی اقدار کو دن کرنے ک ے واسطے کھودا تھا، امام عالی مقامؑ نے اسی غار کے اندر یزیدیت کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کردیا۔ اگر امام حسینؑ کی جگہ کوئی دوسرا ہوتا اور اس پر ان مصائب کا عشر عشیر بھی پڑتا تو یقینی طور اس کے ارادوں کی بنیادیں متزلزل ہوجائیں۔ لیکن حضرت امام حسینؑ نے میدان کربلا میں جو لازوال اور بے مثال قربانیاں پیش کیں وہ نہایت ہی بلند اور انسانیت کی بقاء کیلئے چشم کشاتھیں۔ آخری نبیؐ کے نواسے نے جو کچھ کردکھایا اس کی نظر پردُنیائے تاریخ میں پیش کرنے سے قاصر ہے۔
امام حسینؑ نے اپنے لئے سدا خدمت خلق کو عزیز رکھا۔ فقر وفاقہ کی زندگی خوشی خوشی قبول کی اور آرام کو حرام سمجھ کر انسانیت کو باقی رکھنے پر کمربستہ ہوگئے۔دُنیا کا قاعدہ رہا ہے کہ اگر کوئی شخص فقط تحفظ مذہب کی خاطر اپنی جان دے تو اس کے مذہب والے ہی اس کی یاد مناتے ہیں۔ اسی طرح اگرکوئی فرد اپنے وطن کی خاطر کوئی قربانی پیش کرے تو اس کے اہل وطن ہی اس کی یادگار قائم کرتے ہیں۔ اس کے برعکس حضرت امام حسینؑ نے صرف انسانیت کو بچانے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ لہذا اس محسن انسانیت کو یادگار منانا ہر انسان کا بلا تمیز رنگ ونسل اور مذہب فرض اولین ہے۔
چناچنہ آج کون سی قوم ہے جو عزاداری شہید عظیمؑ نہ کرتی ہو، سکھ ہو یاہندو،عیسائی ہو یا پارسی سب اپنے اپنے طرز معاشرت کے اعتبار سے عزاداری کرتے ہیں۔ یاد گارحسین میں عقیدت کے پھول چڑھاکر اپنی انسانیت کا ثبوت دیتے ہیں کوئی بھی فرد محرم الحرام کے ایام میں مشرق ومغرب کی سیاحت کرے تو اس کو علمیت ہوگی کہ محسن انسانیتؑ کی یادگار ہر جگہ کسی نہ کسی روپ میں ضرور منائی جاتی ہے۔ مختلف مذاہب کے مفسروں، عالموں، دانشوروں کے ساتھ ساتھ ادیبوں،صحافیوں اور شاعروں نے بھی حضرت امام حسینؑ کی شہادت عظیم کی بابت بہت کچھ کہا ہے اور ضبط تحریر میں لایا ہے۔ سردست کچھ غیر مسلم شعراء کے کلام میں سے چنداشعار تحریر کررہا ہوں جو اُنہوں نے امام عالی مقامؑ کی شان میں قلم بند کئے ہیں۔
جناب سردار کنور مہندرسنگھ بیدی سحر
بڑھائی دین محمدؐ کی آبروتونے
جہاں میں ہوکے دکھایا ہے سرخروتونے
چھڑک کے خون شہیدوں کا لالہ وگل پر
عطاکئے ہیں زمانے کو رنگ وبو تونے
جناب جوش ملیاتی
پانی بھی کسی کو نہ دیا اہل ستم نے
پیاسے تھے بہتر کے بہتر لب دریا
کس دل سے سنے ان کی مصیبت کوئی اے جوش
پیاسے ہی جو مرجائیں تڑپ کر لب دریا
جناب منوہر لال دل
وہ دشت کربلا کی حسینی بہار ہے
فردوس کی بہار بھی جس پرنثار ہے
ابن علیؑ کے غم میں مرادل فگار ہے
مفطر ہے روح آ نکھ مری اشکبار ہے
لالہ رگھبیر پرشاد گوہر
قربانی حسینؑ نے گوہر خدا گواہ
انسانیت کو فخر کے قابل بنادیا
جناب جے سنگھ بہار
مذہب کی قید ہے نہیں ذکر حسینؑ میں
ہر حق پرست ہوگیا شیدا حسین کا
راون کی طرح مٹ گیا دُنیا سے تویزید
لیکن دلوں پہ آج بھی قبضہ حسینؑ کا
محترمہ روپ کماری صاحبہ
اک اپنا کیا کہ بہتر کا خون دیا شہہ نے
میں ان کے صدقے برادر کا خون دیا شہہ نے
جناب پرتپال سنگھ بیتاب
رنگ حق خود،حقیقت ہے فضا میں ورنہ
رنگ باطل کا ہر ایک سمت نمایا ں ہوتا
سردار درشن سنگھ وگل
فاتح گردش دوراں شہہ تسلیم ورضا
اہل ہمت تری ہمت کی قسم کھائیں گے
جناب اوم پرکاش ساحر
ہندوہوں اک طور سے سودائی بھی
کافر بھی ہوں کو ثر کا تمنائی بھی
ہے حق وصداقت میراملک ساحر
ہندو بھی ہوں شبیرؑ کا شیدائی بھی
جناب وشواناتھ پرشادماتھر
ہر ایک قوم کی الفت بتارہی ہے حسینؑ
تمہیں نے غم کے چراغوں کو روشنی دی
جناب رانا بھگوان داس
مالک کوثر تری جاگیر ہے خلد نعیم
تیری ذات پاک مولّامعنی ذبح عظیم
جناب گوپی ناتھ امن
ہوتے ہیں جس بزم یا مجلس میں ازکار حسینؑ
اس میں ہر جانب نظر آتے ہیں انوار حسینؑ
جناب نوبہارصابر
یوں نہ قربان اگر شاہ شہیداں ہوتا
کون پھر دین پیمبر کانگہبان ہوتا
پروفیسر جگن ناتھ آزاد
دُنیائے دل میں ایک قیامت بپا ہے آج
نوک قلم پہ تذکرہ کربلا ہے آج
جناب پورن سنگھ ہنر
اہل عزا کی آنکھوں سے موتی برستے ہیں
ذکر حسینؑ سکون وقرار ہے
جناب جگدیپ بہادر سوری
میدان کربلا میں شہیدوں کے بادشاہ
دیتے رہے دُعائیں ستم کے جواب میں
جناب ڈاکٹر سنگھرشی
پیغام انقلاب ہے پیغام کربلا
ہر عہد کے یزید کی مٹی پلید ہ
جناب عابد مناوری
بے اختیار آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے
ذکر حسینؑ آیا جو کربلا کے باب میں
پروفیسر شیو پرشاد
اے حسینؑ اب علیؑ اے کشتہ راہ وفا
کیسے ممکن ہے تیری خاک پر سجدہ کروں
محترمہ للت موہنی
قائم رہے گی روح حقیقت حسینؑ کی
دائم رہے گی دہر میں شہرت حسینؑ کی










