40روز تک زمستانی ہوائوں،کپکپاتی سردی اور برف و باراں کا شدید امکاں
سرینگر//یو این ایس/ زمستانی ہوائوں،کپکپاتی سردی اور مسلسل خشک موسم کے بیچ وادی کشمیر میں سرد ترین موسم کا بادشاہ کہلانے والا ’’چلہ کلان‘‘ 20 اور 21 دسمبر کی درمیانی شب جلواہ افروز ہوا، جس کے ساتھ ہی وادی میں شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔چلہ کلان کی آمد کے پیش نظر عوام نے پیشگی تیاریاں شروع کرتے ہوئے خشک سبزیوں، دالوں، اشیائے خوردنی، راشن، رسوائی گیس، تیل خاکی اور دیگر ضروری اشیاء کا ذخیرہ کر لیا ہے۔ وادی میں 40 دنوں پر محیط اس شدید سرد موسم نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دستک دی، تاہم گزشتہ برسوں کے برعکس اس مرتبہ چلہ کلان کا استقبال بارش اور برفباری کے بجائے خشک موسم اور کھلی دھوپ کے ساتھ ہوا۔اگرچہ بارشوں اور برفباری کی کمی رہی، لیکن گزشتہ کئی دنوں سے جاری سردی کی لہر نے رات کے اوقات میں انتہائی سخت رخ اختیار کیا اور درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری نیچے چلا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں سردی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ شمالی اور جنوبی کشمیر کے بالائی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برفباری کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔چلہ کلان کو وادی کشمیر میں صدیوں سے ایک منفرد اور علامتی اہمیت حاصل ہے۔ اس موسم کی آمد کے ساتھ ہی بزرگوں کے ذہنوں میں وہ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں جب پوری وادی برف کی موٹی تہوں میں ڈھکی رہتی تھی، گھروں اور عمارتوں کی چھتوں سے ٹپکتا پانی منفی درجہ حرارت کے باعث ہوا میں ہی جم جاتا تھا، جسے کشمیری زبان میں ’’’ششر گانٹھ‘‘ کہا جاتا ہے۔ماضی میں شدید برفباری کے سبب کئی دیہات ہفتوں تک قصبہ جات اور شہروں سے کٹ جاتے تھے، تاہم دیہاتی علاقوں میں اس موسم کے لیے مکمل تیاریاں کی جاتی تھیں۔ لوگ خشک سبزیاں، دالیں ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ بھیڑ بکریاں اور پولٹری پرندے پالتے تھے تاکہ ضرورت کے وقت استعمال کیا جا سکے۔گزشتہ چند برسوں میں موسم سرما کے اس روایتی انداز میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ برفباری میں کمی کے باعث لوگوں کے طرزِ زندگی میں بھی نمایاں فرق آیا ہے، تاہم اس کے باوجود چلہ کلان آج بھی کشمیری ثقافت اور روایت میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔افسانوی تصورات میں چلہ کلان کو اگرچہ ایک بزرگ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے، مگر کہا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات بچوں جیسی شوخ حرکات بھی کرتا ہے، اور اگر ناراض ہو جائے تو شدید برفباری کے ذریعے زندگی مفلوج کر دیتا ہے۔ ایک مشہور کہاوت کے مطابق چلہ کلان کہتا ہے’’اگر میں بزرگ نہ ہوتا تو اتنی برفباری کرتا کہ لوگوں کو درختوں کے اوپر سے راستے بنانے پڑتے۔‘‘چلہ کلان کے آغاز کے ساتھ ہی شہر اور دیہات میں لوگوں نے گرم ملبوسات، بالن، ایندھن اور دیگر ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کر لی ہے، کیونکہ اس دوران جموں-سری نگر قومی شاہراہ بند ہونے کے باعث ضروری سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ادھر سرکاری سطح پر بھی چلہ کلان کی آمد سے قبل تمام محکمے الرٹ موڈ پر ہیں۔ محکمہ خوراک، تیل و گیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے ضروری اشیاء کا وافر ذخیرہ یقینی بنانے کے اقدامات تیز کر دیے ہیں تاکہ شدید سردی کے دوران عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔










