سرینگر// وادی کشمیر میں طویل موسم خشک رہنے کے نتیجے میں شہر و گائوں لوگ کوئیلہ بنانے میں مصروف عمل ہے جس کے نتیجے میں آپ و ہواآلودہ ہوتا جارہا ہے اور ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آرہا ہے خاص کر جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں یہ کام گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ نمائندے کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرماء قریب آنے کے ساتھ ہی شہر و گائو ں میں لوگ درختوں کی سوکھی ٹہنیوں اور دیگر سوکھی لکڑیوں سے کوئیلہ بنانے میں مصروف ہے۔ یہ سلسلہ قریب گزشتہ کئی دنوں سے برابر جاری ہے جس کے نتیجے میں ہوا بھی زہر آلود ہوتا جارہا ہے کیونکہ کوئلہ بنانے کے عمل کے دوران جلائی جارہی سوکھی لکڑیوں سے دھواں جو نکلتا ہے وہ ماحول کو آلودہ بنارہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ دھواں مختلف امراض میں مبتلاء مریضوں کیلئے بھی مضر صحت ہے۔ سوکھی لکڑیوں سے کوئلہ بنانے کا کام اگرچہ وادی کے ہر قصبہ اور ہر ضلع میں کیا جارہا ہے تاہم سب سے زیادہ یہ عمل جنوبی کشمیر میں دیکھا جارہا ہے جہاں پر سینکڑوں بینڈ سا ملیں چل رہی ہے جہاں پر میوہ کی پیٹاں بنائی جارہی ہے لیکن امسال میوہ پیٹیوٹںکی مانگ میں کمی کے پیش نظر اس لکڑی کو اب کوئلہ بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے اور جنوبی کشمیر خاص کر ضلع اننت ناگ میں ہر جگہ لوگ اس طرح کوئلہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے ہر طرف دھواں ہی دھواں نظر آرہا ہے۔ سڑکوں پر، باغات میں کھلے میدانوں یہاں تک کہ گلی کوچوں میں بھی لوگ سوکھی لکڑیوں سے کوئلہ بنارہے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کی اگر مانیں تو اس طرح حد سے زیادہ کوئلہ بنانے کے عمل سے یہاں پر آب و ہوا پر کافی منفی اثر پڑتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دلی میں گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں کی وجہ سے ہوا اس قدر آلودہ ہوگئی ہے کہ اب دلی میں سائنس لینا بھی دشوار بن گیا ہے اسی طرح اگر وادی کشمیر میں اس عمل پر روک نہیں لگائی گئی تو یہاں پر بھی اسی طرح ہوا آلودہ ہوجائے گا جہاں پر لوگوں کو سائنس لینا بھی دشوار بن جائے گا۔ ماہرین نے صلاح دی ہے کہ کوئلہ بنانے کا عمل مختصر کیاجائے۔










