پانی کے وسائل کی بے قدری اور سرکارکی عدم توجہی کا نتیجہ،حکام سے فوری توجہ دینے کا مطالبہ
سرینگر / کے پی ایس / /وادی میں پانی کی بہتات اور کافی وسائل ہونے کے باوجود بھی شہر ودیہات میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے اور آئے روز مردوزن سڑکوں پر آکر محکمہ جل شکتی کے خلاف خیمہ زن ہو جاتے ہیں اور محکمہ کے متعلقہ افسران کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں جس سے گھنٹوں ہا ٹریفک کی نقل وحرکت بھی مسدود ہوکر رہ جاتی ہے اور اس سے مسافر درماندہ ہوجاتے ہیں جبکہ مریضوں کے درد میں اضافہ کے باعث تیمارداروں کی پریشانیوں کی انتہا ہوجاتی ہے ۔گویا کہ ایک چیز دستیاب نہ ہونے کی صورت میں معمولات زندگی درہم برہم ہوجاتی ہے ۔یہاں اس خطے میں جھیلوں ،دریائوں اور ندی نالوں میں پانی کی بہتات ہوا کرتی تھی اور کئی دہائی قبل خواتین مٹکے کندھوں پر اٹھاکر انہی آبی وسائل سے پینے اور استعمال کرنے کیلئے پانی لاتے تھے تاہم واٹر سپلائی اسکیم کو شروع کرنے کے بعد گھر گھر پانی کی لائن پہنچائی گئی اور شہر ودیہات میں یہ رواج عام ہونے لگا اس دوران لوگوں نے قدرتی آبی وسائل یعنی جھیلوں ،دریائوں اور ندی نالوں پر قبضہ کرنا شروع کریا اور ان کے کناروں پر بستیاں قائم ہونے سے ان کا پانی آلودہ ہو گیا ہے ۔یہاں تک اب یہ آبی وسائل سکڑ کر محدود ہوگئے ہیں ۔اس طرح سے پانی کی نعمت سے یہ آبی وسائل محروم ہوگئے جس کا خمیازہ اپنے کرتوتوں کے باعث انسانوں کوہی بھگتنا پڑتا ہے کیونکہ انسانوں نے ان قبضہ جمایا یا کوڑا کرکٹ ڈال کر اس نعمت کی بے قدری کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ جس سے ان میں بچا کچا پانی ناقابل استعمال بنا ہوا ہے ۔واٹر سپلائی اسکیم ہونے کے باوجود بھی ہر طرف پانی کا ہا ہا کار مچی ہے ۔اس کے تدارک کیلئے محکمہ جل شکتی ناکام ہوا ہے ۔اس سلسلے میں مرکزی سرکار اور گورنر انتظامیہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آبی وسائل کے تحفظ ،صفائی کو یقینی بنانے اور واٹر سپلائی اسکیم کو مستحکم بنانے کیلئے فوری طور لائحہ عمل ترتیب دیں اور جنگی پیمانے پر اقدامات اٹھائے جائیں اور ان لوگوں کو متنبع کیا جائے کہ وہ آبی وسائل پر قبضہ کرنے اور کوڑا کرکٹ ڈالنے سے اجتناب کریں ۔تاکہ عام لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے ۔










