checking vehicles at Lal Chowk

شہر میں تازہ شہری ہلاکتوں کے بعد سری نگر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت

سرینگر//سرینگر میں پیر کی شام بندوق برداروں کے حملے میں مارے گئے سیلز مینکی ہلاکت کے بعد سرینگر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ۔اس دوران تازہ واردات کے بعد ایک سیکورٹی جائزہ میٹنگ آج منعقد ہونے کا امکان ہے جس کی صدارت لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کریں گے ۔ادھر مارے گئے سیلز مین کو آبائی علاقے میں سپر خاک کیا گیا ہے جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ان کے نماز جنازہ میں حصہ لیا ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابقتازہ شہری ہلاکتوں کے پیش نظر سری نگر کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی بند وبست کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور سیکورٹی فورسز نے ناکوں پر لوگوں اور گاڑیوں کی تلاشی کا سلسلہ ایک بار پھر شروع کر دیا ہے۔واضع رہے کہ سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں اتوار کی شام نامعلوم بندوق براداروں نے ایک پولیس اہلکار کو گولیاں برسا کر ابدی نیند سلا دیا جبکہ پیر کی شام سری نگر کے بہوری کدل علاقے میں مشتبہ جنگجوؤں نے ایک سیلز مین کو گولیوں کا نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا۔ نامہ نگار نے منگل کے روز شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی بند وبست کو مزید سخت کر دیا گیا جس دوران رہ گیروں اور مسافروں سے جامہ تلاشی اور گاڑیوں کی بھی چیکنگ کی جا رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ کئی اہم اور حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز نے ناکے لگا دئے ہیں اور وہاں مشکوک نظر آنے ولی مسافر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، آٹو رکشا وغیرہ کو روکا جاتا تھا اور ان کی تلاشی کی جاتی تھی اور ان میں سوار مسافروں کی بھی جامہ تلاشی کی جاتی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ کئی مقامات پر راہگیروں کو بھی روکا جاتا تھا اور ان کی جامہ تلاشی بھی کی جاتی تھی اور ان کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جاتے تھے۔انہوں نے بتایا جن گاڑیوں میں زیادہ مسافر سوار ہوتے تھے ان سے مسافروں کو نیچے اتارا جاتا تھا اور ان مسافروں کی جامہ تلاشی اور شناختی کارڈ چیک کئے جاتے تھے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گذشتہ ماہ کے اوائل میں بھی کشمیر کے مختلف علاقوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کے بعد سری نگر کے قرب وجوار میں سیکورٹی بند وبست کو سخت کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں حالات میں بہتری واقع ہونے کے ساتھ ہی سیکورٹی فورسز کی طرف سے گاڑیوں اور لوگوں کی تلاشی کرنے کا سلسلہ تھم گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ انگریزی روز نامہ ’دی ٹیلی گراف‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے وادی کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر جموں وکشمیر میں پیرا ملٹری فورسز کی 50 اضافی کمپنیاں تعینات کرنے کا فیصلہ لیا ہے‘۔رپورٹ میں مرکزی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا: ’وادی کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے تناظر میں سیکورٹی صورتحال انتہائی چلینجنگ ہے۔ جموں وکشمیر پولیس کو امن و قانون کی بحالی کو یقینی بنانے اور انسداد دہشت گردی آپریشنز میں مدد کرنے کرنے کے لئے یونین ٹریٹری میں پیرا ملٹری فورسز کی 50 اضافی کمپنیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا وادی کشمیر میں ہونے والی ہلاکتوں کے پس منظر میں یہاں ایک سیکورٹی جائزہ میٹنگ کریں گے۔ایک اہلکار نے بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس، فوج، نیم فوجی دستوں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران لیفٹیننٹ گورنر کو سیکورٹی کے حالات پر بریفنگ دیں گے۔جموں و کشمیر پولیس اہلکاروں کی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ہلاکت کے ایک دن بعد پیر کو ایک شہری کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ “ایل جی سنہا سول سیکرٹریٹ میں میٹنگ کی صدارت کریں گے اور یوٹی میں موجودہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔”انہوں نے کہا کہ کشمیر کے سینئر افسران میٹنگ میں عملی طور پر شرکت کریں گے۔ جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ کے ساتھ اے ڈی جی جموں زون، اسپیشل ڈی جی سی آر پی ایف، آئی جی بی ایس ایف، مختلف سیکورٹی ایجنسیوں کے ڈی جی اور اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی میٹنگ میں شرکت کریں گے۔دریں اثنا جنگجوئوں کے حملے میںمارے گئے سیلزمین کو اپنے آبائی علاقے میں منگل کی صبح سپرد لحد کیا گیا ہے جہاں ان کے نماز جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے ۔ا س دوران علاقے میں رقعت آمیز مناظر بھی دیکھنے کو مل ہیںجہاں خواتین سینہ کوبی کر رہی تھیں۔خیال رہے مزکورہ سیلز میں کو دسوموار کی شام بہوری کدل سرینگر میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا