تربوز بیچنے والوں کے سامنے لوگوں کی بھاری بھیڑ ، کاروبار سے وابستہ افراد بھی مطمئن
سرینگر // گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ہی شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں ’’تربوز ‘‘کی مانگ بڑھ گئی ہے اور شہر کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر تربوز بیچنے والوں کے سامنے لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے اور گرمی سے راحت پانے کیلئے لوگ تربوز کھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق گزشتہ کچھ دنوں سے اگرچہ دن میں گرمی کی لہر میں معمولی اضافہ ہو گیا ہے وہیں گرمی سے راحت پانے کیلئے بازار میںلوگ تربوز کھانے میںمصروف نظر آتے ہیں ۔ شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگر علاقوں میں ریڈہ والوں اور دکاندار وں جہاں تربوز فروخت کئے جا رہے ہیں وہاں کافی رش رہتا ہے اور لوگ تربوز کی خریداری میں مصروف دکھائی دیتے ہیں وہیں تر بوز بیچنے والوں کی جانب سے خریداروں کو مائل کرنے کی کوشش بھی رہتی ہے اور ’’ گرمی میں بدن کی ٹھنڈی ‘‘ کی آوازیں لگا کر وہ خریداروں کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں ۔ سرینگر شہر کے مختلف علاقوں میں ریڈوں پر موجود بھاری مقدار میں دن بھر تربوز گاہکوں کو فروخت کئے جا رہے ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ریڈوں کے آس پاس لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھنے کو مل رہی ہے جو تربوز کھاتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ شہر کے علاوہ وادی کے دیگر بازاروں میں بھی ایسی ہی مناظر دن بھر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اگرچہ امسال وادی کشمیر میں موسم مسلسل خراب رہا اور ماہ جون میں بھی دن کا درجہ حرارت معمول سے نیچے رہا تاہم گرمیوں میں معمولی اضافہ ہونے کے ساتھ ہی تربوز کی خریداری میں اضافہ درج ہو گیا ہے ۔ سرینگر کے مضافاتی علاقہ میں ایک ریڈہ بان جو کافی عرصہ سے تر بوز بیچنے کا کام کر رہا ہے نے سی این آئی کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال مسلسل بارشوں کے باعث ماہ جون میں بھی سردی جاری رہی جس وجہ سے کاروبار کچھ خاصہ اچھا نہیں تھا تاہم گزشتہ کئی دنوں سے گرمی کی لہر میں کچھ حد اضافہ ہونے کے ساتھ ہی کاروبار میں کچھ اضافہ ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح سے موسم ٹھیک رہا تھا آنے والے دنوں میں کاروبار میں مزید اضافہ درج ہو سکتا ہے تاہم اس سب کا درمدار موسمی صورتحال پر ہے ۔ ایک اور ریڈہ بان نے کہا کہ گرمی میں جتنا اضافہ ہو گیا اتنا ہی کاروبار اچھے سے چلیں گا کیونکہ شدید گرمیوں میں تر بوز لوگوں کی پہلی پسند ہو تی ہے ۔










