سرینگر//ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث عناصر کو جلد بے نقاب کیا جائے گا۔انہوں نے ایسے حملوں کو وادی کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔جے کے این ایس کے مطابق دوٹیچروںکی ہلاکت کاالمناک واقعہ رونما ہونے کے بعدگورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول سنگم ، عیدگاہ سرینگر کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ معصوم شہریوں کا قتل ’مایوسی اور بربریت‘کی عکاسی کرتا ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ کشمیر ی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔دلباغ سنگھ نے کہا کہ اساتذہ سمیت معصوم شہریوں کو قتل کرنا کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کی پرانی روایت پر حملہ اور نقصان پہنچانا ہے۔انہوںنے کہاکہ جنگجو بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو سماجی خدمات میں مصروف ہیں اور ان کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے کہا کہ پولیس کو پچھلے مقدمات میں قاتلوں کے بارے میں کچھ سراغ ملے ہیں اور یہ کہ نئے کیس کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ میں نے اسکول کے عملے کے ارکان سے بات کی اور وہ 2 ساتھیوں کو کھونے پر مکمل صدمے میں ہیں۔ پولیس قاتلوں کو جلد پکڑ لے گی۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ ٹی آر ایف نامی جنگجو تنظیم ان ہلاکتوںکی ذمہ دار ہے اور یہ تمام جنگجو تنظیموں جیسے لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین کا فرنٹ گروپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نمونہ ہے کیونکہ وہ اقلیتی برادری کو دہشت زدہ کرنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ یہاں خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس طرح کی ہلاکتوں کو فرقہ وارانہ رنگت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ کشمیر میں فرقہ وارانہ بھائی چارے کو نقصان پہنچے۔ ڈی جی پی دلباغ سنگھ کاکہناتھاکہ مہلوک شہریوں میں سے ایک خاتون تھی ،جو سنگم عیدہ میں ایک اسکول کی پرنسپل تھی۔ابہوں نے کہاکہ ہمیں اس طرح کے قتل پر افسوس ہے۔ ہم ان مقدمات پر کام کر رہے ہیں جو پہلے ہو چکے ہیں۔ڈی جی پی نے دعویٰ کیاکہ سری نگر پولیس کو کئی سراغ ملے ہیں اور بہت جلد ہم ان لوگوں کو بے نقاب کریں گے جو انسانیت کو نشانہ بنا رہے ہیں ، مقامی اخلاق اور لوگوں میں بھائی چارے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوںنے پھرکہاکہ یہ یقینی طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کو نشانہ بنانے کی سازش ہے۔یہ ایک مقامی کشمیری مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔اور یہ ان لوگوں کو نشانہ بنانے کی سازش ہے جو روزی کیلئے باہر سے آتے ہیں۔ یہ ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نشانہ بنانے کی سازش ہے۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس دلباغ سنگھ نے مزیدکہاکہ یہ امن کی جانب بڑھتے ہوئے اقدامات کو روکنے کی کوشش ہے اور مجھے اُمید ہے کہ کشمیر کے لوگ ہمارے ساتھ مل کر اس سازش کو بے نقاب کریں گے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اسکول کے عملے نے حملہ کرنے والوں کے بارے میں کچھ بتایا ، ڈی جی پی نے کہاکہ اسکول عملہ خوف میں ہے۔ ان کے ساتھیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ باقی پولیس اس پر کام کر رہی ہے اور بہت جلد ہم انہیں بے نقاب کریں گے۔










