سری نگر//موسم سرماکی آمدکیساتھ ہی شہرسری نگرسمیت وادی کے اطراف واکناف میں ٹرانسپورٹ کانظام عملاًدرہم برہم ہوکررہ گیاہے ،کیونکہ شام کاسایہ پڑنے کیساتھ ہی مسافرگاڑیاں سڑکوں سے غائب ہوجاتی ہیں ۔ڈیوٹی یاکاروبارکے اوقات کے بعدگھرجانے میں ملازمین ،تاجروں ،مزدوروں اوردیگرسبھی لوگوںکوسخت مشکلات کاسامناکرناپڑتا ہے ۔جے کے این ایس کوکئی لوگوںنے بتایاکہ شام 4بجے سے ہی مسافرگاڑیاںغائب ہوجاتی ہیں ۔انہوںنے بتایاکہ لالچوک سے شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچنے کیلئے کوئی گاڑی دستیاب نہیں ہوتی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ بیشتر لوگ یاتوپیدل چلنے سے مجبور ہوجاتے ہیں یاپھرآٹورکھشاوالوںکومنہ مانگاکرایہ اداکرکے گھروں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔لوگوںمیں اسبات پرسخت ناراضگی پائی جاتی ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے مسافر گاڑیوںکے مالکان کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے جبکہ روٹ پرمٹ اجراء کرتے وقت اُن سے باضابط قواعدوضوابط پرعمل کرنے کاتحریری عہدلیاجاتاہے ۔لوگوںنے مانگ کی کہ شا م کے وقت سری نگرشہر اورتمام ضلعی وتحاصیل صدر مقامات پر مسافر ٹرانسپورٹ سروس کویقینی بنانے کیلئے اقدامات روبہ عمل لائے جائیں ۔اس دوران سری نگرمیں رواں ماہ کی پہلی تاریخ سے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں سرینگر کی سڑکوں پر بحال کردی گئی ہیں ۔ یہ گاڑیاں دوبارہ سے شہر کی سڑکوں پر دوڑتی نظر آرہی ہیں ۔ جے کے ایس آر ٹی سی ورکرز یونین کے صدر وجاہت حسین دورانی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ان گاڑیوں پر عائد پابندی ہٹائی گئی۔ جس کے لیے جموں وکشمیر انتظامیہ و دیگر اعلیٰ افسران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔گاڑیوں کے بند ہونے کے بعد جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے ان گاڑیوں پر پابندی عائد کرنے اور عوام کو ہو رہی مشکلات پر سخت برہمی کا اظہار کیاتھا۔انہوں نے ان گاڑیوں اور دیگر سرکاری اداروں کی گاڑیوں کی شہر میں آمدورفت پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ آنے پر زور دیا ہے۔ان الیکٹرک بسوں پر پابندی سے نہ صرف جموں و کشمیر کے خزانہ کو آمدنی میں نقصان ہوتا ہے،بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنے کرنا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ2019 میں مرکزی حکمومت کی فیم اسکیم کے تحت جے کے ایس ار ٹی سی کو بجلی پر چلنے والی 40گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں۔ جن میں سے 20 جموں کو جبکہ دیگر20 سرینگر کو دی گئی۔ ان گاڑیوں کو شہر میں عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانے کے غرض سے لایا گیا تھا۔










