hassn sahoo

شہادت امام عالی مقامؑ

حسن ساہوؔ

محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسی ما۶۱ھ کو حق وصداقت کے لباس میں ملبوس۷۳نفوس نے سرورکائنات فخر موجودات حضرت محمدؐ کے نوا سے حضرت امام حسینؑکی قیادت میں ظلم واستبداد کا مقابلہ کیا۔ اور سب کچھ لٹاکر یہ ثابت کردکھایا کہ حق کی عارضی شکست دراصل ابدی فرح ہوا کرتی ہے۔ اور ظلم وجبر کی خونریزکہانیاں تاریخ میں سداکیلئے دفن ہوجایا کرتی ہیں۔
اندازہ لگائیے تین دنوں کے بھوکے پیاسے اللہ کے سپاہی امام عالی مقامؑ کی سرکردگی میں اللہ کی راہ میں کس شان سے قربانیاں پیش کرتے ہیں ۔ تپتی ہوئی کرب وبالا کی صحرائی زمین بے آب وگیا سلسلہ ہزاروں کے مقابلہ میں بہتر جان نثار اسلام الغرض سرزمین کربلا پانی کی جگہ آگ اگل رہی ہے۔ ایسے میں کون ہیں جو اللہ پاک کے پسندیدہ دین اسلام کی بقاء وسلامتی کی خاطر سب کچھ لٹانے کے لئے آگے آئے ہیں ۔ اور شجر اسلام کو اپنے آگ خون میں سے سیراب کررہے ہیں۔مشکل ترین معاملاتیں اصولوں کی جنگ میدان کربلا میں لڑی گئی۔ واہ رے جذبہ فدا کاری ایک شہید ہوتا ہے تو دوسرا خود ہی شہادت کیلئے اجازت طلب کرتا ہے۔ اجازت دینے والے رسول اللہ ؐ کے نواسے پر قربان جائے جو حُر کو گلے لگا کر ازانِ جہاد دیتا ہے۔ حبیب اور مسلم بن عوسجہ جیسے عمر رسیدہ ساتھیوں کو میدان کارزار میں جانے کیلئے تیار کررہا ہے۔بھیجتے قاسم کے بدن کے ٹکڑے جمع کرتا ہے۔ بھانجوںعون ومحمد کی لاشوں کو گنج شہداء میں لاتا ہے ۔بھائی عباسؑ کے کٹے ہوئے بازئوں کو جلتی ریت پر سے اُٹھاتا ہے۔ بیٹے علی اکبرؑ جیسے کڑیل جوان کے سینے سے برچھی نکالتا ہے۔ اور ششماہے علی اصغر کے سوکھے گلے سے تیر نکالتا ہے۔ جب اصحاب واقربامیں کوئی نہ رہا تو خود حق کی راہ میں شہید ہونے کیلئے نکلتا ہے حق وصداقت کے متوالے پہنچانتے ہیں کہ یہ حسینؑ ہیں۔
مکمل کفر کے مقابل مکمل ایمان۔۔۔بہ قول شاعر

ختم جس نے کیا باطل کا فانہ وہ حسینؑ
آج بھی گونجتا ہے جس کا ترانہ وہ حسینؑ
حق یہ قربان کیا سارا گھرانہ وہ حسینؑ
جس کا نام آتے ہی رتا ہے زمانہ وہ حسینؑ
صبر سے ظلم کے طوفان کا رُخ موڑدیا
زندگی حق کو ملی شرک نے دم توڑدیا

اب دیکھنا یہ ہے کہ جوعظیم قربانی کربلا میں پیش کی گئی کیا امام حسینؑ نے فقط رونے اور رُلانے کیلئے دی تھی۔ مجالس حسینی کا صرف اس لئے آتا ہےتاکہ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں کو یاد کر کے سینہ کو بی اور قمہ زنی کا بھر پور مظاہرہ کیا جائے۔ دراصل عزاداری کا مطلب تبلیغ دین ہے اور ہر عزادار کے لئے ضروری ہے کہ وہ دین دار بھی ہو۔اب کوئی عزادار ہو مگر وہ دین دارنہ ہو تو یقیناً اس کی عزاداری بے روح وبے مطلب ہے۔
ایک عزادار اپنے کواہل بیت اطہار کا ہمدرد گردانے اور شہدائے کربلا کی بھو ک وپیاس پر ماتم کرئے، مگر مظلوم کا ساتھ نہ دئے۔
اسی طرح یہ کہاں کی دانش مندی ہے کہ کربلا کے خونین میدان میں تیروں کی بارش میں امام حسین ؑ کی نماز ادا ہورہی ہو۔ ایک عزادار مصائب کربلا کو یاد کرکے روئے مگر بے نمازی ہو یا وقت پر نماز ادا کرنے میں پیش پیش نہ ہو۔عزادار محذ رات عصمت کی بے پردگی پر آنسو بہائے اور اس کے گھرانے کی عورتیں بے پردہ ماتمی جلسہ وجلوسوں میں شرکت کریں۔یہ کہاں کا انصاف ہے۔