شوپیان//جنوبی کشمیرکے پہاڑی ضلع شوپیان کے چک صدیق خان علاقہ میں اتوار اورسوموارکی درمیانی رات ایک معرکہ آرائی کے دوران سال2017سے سرگرم لشکر کمانڈر سمیت2مقامی جنگجو جاں بحق ہوگئے ۔پولیس نے بتایاکہ جائے جھڑپ سے دونو ں مہلوک جنگجوئوں کی نعشوں اور2اے کے47رائفلوں اوردیگرگولی بارود کوبرآمد کیاگیا ۔آئی جی پی کشمیر وجئے کمار نے 2مقامی جنگجوئوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ لشکرکمانڈر اشفاق ڈار عرف ابو اکرم اوراسکا ساتھی ماجداقبال کئی حملوں وہلاکتوں میں ملوث تھے ۔اس دوران پولیس نے بتایاکہ امسال جنگجومخالف آپریشنوں کے دوران 80جنگجومارے گئے ہیں ،جن میں 41کاتعلق لشکر طیبہ سے تھا۔کشمیرنیوزسروس کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ ،سی آرپی ایف اورفوج کی34آرآرسے وابستہ اہلکاروں نے اتوار کوشام دیرگئے ضلع شوپیان کے شک صدیق خان علاقہ کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لیا۔ذرائع کے مطابق محاصرے کی کارروائی عمل میں لانے کے دوران معلوم ہواکہ یہاں لشکر کاایک اعلیٰ کمانڈر بھی موجودہے ،اسلئے محاصرے کومزیدسخت کردیاگیا تاکہ یہاں پھنسے جنگجوئوںکوفرار ہونے کاکوئی بھی موقعہ یاراستہ نہ مل ۔پولیس کے ایک ترجمان نے چک صدیق خان شوپیان میں روبہ عمل لائے گئے جنگجومخالف آپریشن کے بارے میں بتایاکہ جب سیکورٹی دستے ایک مشتبہ جگہ کے نزدیک پہنچے تویہاں موجودجنگجوئوںنے فائرنگ شروع کردی۔تاہم اسکے باوجود جنگجوئوںکے سامنے سرنڈرکی پیشکش رکھی گئی ،جس کونہ مانتے ہوئے محصور جنگجوئوں نے فائرنگ کاسلسلہ جاری رکھا۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ اسکے بعدایس ائوجی ،فورسزاور فوجی اہلکاروں نے جنگجوئوں کے خلاف جوابی کارروائی عمل لائی ،اوریوں طرفین کے درمیان گولی باری کاسلسلہ شروع ہوگیا۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ رات کی تاریکی میں ہوئی اس جھڑپ کے دوران کچھ دھماکے بھی ہوئے ،جن کی آوازدُوردُورتک سنائی دی ۔پولیس ترجمان نے مزیدبتایاکہ دوران شب کچھ وقت تک کیلئے طرفین کے مابین فائرنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدیہاں خاموشی چھاگئی ،اورکچھ وقت انتظار کے بعدجب سیکورٹی اہلکاروں نے جائے جھڑپ کی تلاشی لی تواُن کویہاں جھڑپ کے دوران مارے گئے 2جنگجوئوںکی نعشیں ملیں اورنعشوں کے نزدیک سے ہی 2اے کے47رائفلوں اوردیگرگولی بارود کوبرآمد کیاگیا۔پولیس ترجمان نے بتایاکہ مارے گئے دونوں جنگجوئوں کی نعشوں اورضبط شدہ اسلحہ وگولی بارود کویہاں سے نزدیکی کیمپ منتقل کیاگیا تاکہ مہلوک جنگجوئوں کی شناخت عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ دوسرے قانونی لوازمات کوپورا کیا جائے ۔ترجمان نے بتایاکہ چک صدیق خان شوپیان میں مارے گئے جنگجوئوںکی شناخت لشکر طیبہ کے اعلیٰ کمانڈر اشفاق ڈار عرف ابو اکرم ولد عبدالرشید ڈار ساکن ہف شیرمال شوپیاںاورماجداقبال ولدمحمداقبال بٹ ساکنہ ملی باغ نوپورہ امام صاحب شوپیان کے بطور ہوئی ۔کشمیر زون پولیس کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر آئی جی پی وجے کمار کے حوالے سے لکھا گیاکہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے اعلیٰ اشفاق ڈار عرف ابو اکرم، جو سال 2017 سے سرگرم تھا، کو ہلاک کیا گیا ہے۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز مبارکبادی کے مستحق ہیں۔قبل ازیں اسی ٹویٹر ہینڈل پر کہا گیا کہ چک صدیق خان میں ایک مسلح تصادم کے دوران2جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ہے جن کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہاکہ اشفاق ڈار عرف ابو اکرم لشکر طیبہ کاایک اعلیٰ کمانڈرتھا ،جوسال 2017میں جنگجوبننے کے بعدسیکورٹی فورسزاورعام شہریوں پر ہوئے کئی حملوں اوراس دوران ہونے والی کئی ہلاکتوں میں بھی ملوث تھاجبکہ ماجد اقبال رواں برس مئی کے مہینے میں ہی جنگجوئوںکی صفوں میں شامل ہواتھااوروہ بھی کچھ پُرتشددکارروائیوںمیں شامل تھا۔آئی جی پی کشمیر وجئے کمار نے بتایاکہ لشکرکمانڈر اشفاق ڈار عرف ابو اکرم اوراسکا ساتھی ماجداقبال کئی حملوں وہلاکتوں میں ملوث تھے ۔پولیس ترجمان نے کہا کہ اشفاق احمد جو سال2017 سے سر گرم تھا، انتہائی مطلوب جنگجوؤں کی فہرست میں شامل تھا اور وہ سیکورٹی فورسز اور عام شہریوں پر حملے کرنے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے علاوہ نوجوانوں کو جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرنے پر بھی راغب کر رہا تھا۔بیان کے مطابق اشفاق احمد زینہ پورہ میں سال2018 میں اقلیتی فرقے کی حفاظت پر مامور چار پولیس اہکاروں کی ہلاکت کے علاوہ چھترگام شوپیاں میں دو غیر مقامی ڈرائیوروں کی ہلاکت میں بھی ملوث تھا۔انہوں نے بتایاکہ جائے جھڑپ سے دونوں مہلوک جنگجوئوں کی نعشوں کے علاقہ2اے کے رائفل اور8میگزین برآمد کرکے ضبط کئے گئے ۔اس دوران پولیس نے بتایاکہ امسال جنگجومخالف آپریشنوں کے دوران 80جنگجومارے گئے ہیں ،جن میں 41کاتعلق لشکر طیبہ سے تھاجبکہ مارے گئے باقی جنگجوئوں کاتعلق جیش محمد ،حزب المجاہدین اوردوسری جنگجوتنظیموں سے تھا۔










