drug

شمیم فردوس نے منشیات کے بڑھتے رُجحان سے نمٹنے کیلئے والدین کو چوکس رہنے کی اپیل کی

سری نگر//رُکن قانون ساز اسمبلی حبہ کدل شمیم فردوس نے جموںوکشمیر میں بالخصوص نوجوان لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے رُجحان پر گہری تشویش کا اِظہار کیا ہے ۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ جہاں حکومت اِس مسئلے سے نمٹنے کے لئے مؤثر اَقدامات کر رہی ہے وہیں شہریوں پر اِس وبا کو روکنے کے لئے کلیدی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔شمیم فردوس نے والدین پر زور دیا کہ وہ اَپنے بچوں کی سرگرمیوں ، دوستی کے حلقے اور جاننے والوں کے بارے میں ہوشیار رہیں کیوں کہ شروعاتی روکتھام کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔یہ تشویش بالخصوص خطے میں منشیات کے اِستعمال کی خطرناک شرح کو دیکھتے ہوئے اہم ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کا سماجی مسائل کا سامنا، جنسی ہراسانی ، گھریلو تشدد اور رشتوں کے مسائل سے وقتی طور پر فرار اِختیار کرنے کے طور پر منشیات کی طرف مائل ہونا واقعی تشویشناک ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ بہت سے لوگ نشے سے نجات کے عمل اور دستیاب وسائل سے ناواقف ہیں۔موصوفہ نے اِس مسئلے سے نمٹنے کے لئے سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، میڈیا پرسنوں اور ماہرین تعلیم سے نوجوانوں کو مشاورت اور مدد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ عوامی بیداری کی مہمات، عوام کوبالخصوص نوجوانوں کو نشے اور اِس کے مضر اَثرات کے بارے میں آگاہ کرنا، منشیات کی روکتھام، منشیات کی تقسیم کو روکنے کے لئے منشیات کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنا، سزا کے بجائے مدد اور بازیابی پر توجہ مرکوز کرنا بہت ضروری بن گیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِن چیلنجوں سے نمٹنے اور مل کر کام کرنے سے ہم جموں و کشمیر میں منشیات کے اِستعمال کے بحران کو کم کر سکتے ہیں اور ایک روشن مستقبل کی اُمید پیدا کر سکتے ہیں تاکہ ہم منشیات کے اِستعمال کے مسئلے کو حل کر سکیں اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لئے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول پیدا کر سکیں۔