سرینگر//شدید گرمی کی لہر کے بیچ جمعرات کے بعد دوپہر کے وادی میں موسم نے اچانک کروٹ بدلی اور دیکھتے ہی دیکھتے مطلع ابرآلود ہوا اور شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیرمیں تیز ہوائوں کے ساتھ ساتھ بارشیں ہوئی ۔وادی کے متعدد علاقوں میں تیز اور طوفانی آندھی کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ درجنوں مکانوں کے چھت اڑ جانے کے علاوہ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں اگرچہ صبح سے ہی تیزدھوپ کھلی تھی تاہم بعد دوپہر وادی کے کئی اضلاع میںتیز ہوائوں کے ساتھ ساتھ بادل گرجے جبکہ شدید بارشیں ہوئی جس کی وجہ سے لوگوں نے شدید گرمی سے راحت پائی۔ جمعرات کے بعد دوپہر موسم نے اچانک کروٹ بدلی اور دیکھتے ہی دیکھتے آسمان بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا اور سورج بھی غائب ہواجس کی وجہ سے درجہ حرارت میں کافی کمی واقع ہوئی ۔ اس دوران سرینگر۔ بارہمولہ، شوپیاں اور پلوامہ میں بادل گرجنے کے ساتھ ہی اچانک سختبارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ادھر ذرائع نے بتایا ہے کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور شوپیان کے کئی علاقوں میں تیز آندھی سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ دوپہر 4بجے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں قریب ایک گھنتے تک آندھی چلی جس کی وجہ سے کھڑی فصلوں کے ساتھ ساتھ میوہ درختوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے کاشت کاروں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔ خراب موسمی صورتحال کے چلتے بعد دوپہر وادی کے متعدد علاقوں میں تیز اور طوفانی آندھی کے نتیجے میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ درجنوں مکانوں کے چھت اڑ جانے کے علاوہ بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ۔تیز آندھی کے باعث کئی مقامات پر درخت اکھڑ کر مکانوں اور گاڑیوں پر گر آئے جس کے نتیجے میں کافی نقصان ہو گیا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ شمال و جنوب کے متعدد علاقوں میں تیر آندھی کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے نتیجے میں درجنوں مکانوں کے چھت اْڑنے کے ساتھ ساتھ بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا۔ جنوبی کشمیر سے بھی نمائندوں نے اطلاع دی ہے کہ درجنوں علاقوں میںاس وقت خوف و دہشت کی لہر پھیل گئی جب اچانک تیز آندھی کا سلسلہ شروع ہوا۔معلوم ہوا ہے کہ تیز اندھی کی وجہ سے کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچ گیا ہے جبکہ درجنوں علاقوں میں بجلی پول اور درخت اکھاڑ آئے جس کے نتیجے میں بجلی کا نظام مکمل طور پر ٹھپ ہو کر رہ گی۔ادھر شام دیر گئے موسمی صورتحال میں تبدیلی آنے کے ساتھ ہی لوگوں نے گرمی کی شدید ترین لہر سے کچھ حد تک راحت پائی ۔










