شمالی کمان میں فوج اور بی ایس ایف کی مشترکہ سکیورٹی کانفرنس

ابھرتے سکیورٹی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے تال میل اور حکمت عملی پر تبادلہ خیال

سرینگر//یو این ایس / جموں و کشمیر کے ضلع ادھم پور میں قائم شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر میں ہفتہ کو بھارتی فوج نے آئی ٹی بی پی اور ایس ایف کے ساتھ ایک ’’سینرجی کانفرنس‘‘منعقد کی جس کا مقصد بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مختلف فورسز کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔فوجی حکام کے مطابق کانفرنس کی صدارت ناردرن کمانڈ کے جنرل ا?فیسر کمانڈنگ اِن چیف پارتیک شرمانے کی۔ اجلاس میں آپریشنل ڈھانچے سے متعلق تجربات اور معلومات کا تبادلہ کیا گیا اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی اور صلاحیتوں کو ہم آہنگ بنانے پر غور کیا گیا۔یو این ایس کے مطابق ناردرن کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اس فورم میں بدلتے سکیورٹی منظرنامے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔س موقع پر لیفٹیننٹ جنرل پرتک شرما نے اجلاس میں شریک افسران سے بات چیت کرتے ہوئے مختلف آپریشنز کے دوران ان کی لگن اور پیشہ ورانہ خدمات کو سراہا۔فوج کے مطابق اس کانفرنس میں ہونے والی گفتگو نے مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان اعتماد اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دی، جس سے ملک کی سلامتی کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کو تقویت ملے گی۔کانفرنس کے موقع پر جدید سازوسامان کی ایک نمائش بھی منعقد کی گئی جس میں فورسز کی جانب سے شامل کی گئی نئی ٹیکنالوجی اور آلات کو پیش کیا گیا تاکہ مستقبل کے سکیورٹی تقاضوں کے مطابق تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔اس دوران فوج میں آئندہ ماہ یکم اپریل سے اعلیٰ سطح پر بڑے پیمانے پر ردوبدل متوقع ہے جس کے تحت ویسٹرن کمانڈ سمیت کئی اہم فوجی کمانڈز کو نئے سربراہ ملنے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ نائب سربراہِ فوج لیفٹیننٹ جنرل پی پی سنگھ کے یکم اپریل سے ویسٹرن آرمی کمانڈر کا عہدہ سنبھالنے کا امکان ہے۔ وہ اس عہدے پر لیفٹیننٹ جنرل منوج کمار کٹیار کی جگہ لیں گے جو 31 مارچ کو اپنی طویل اور نمایاں فوجی خدمات کے بعد ریٹائر ہو رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق چندی گڑھ میں قائم ویسٹرن کمانڈ کو بھارتی فوج کی سب سے اہم آپریشنل کمانڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کمانڈ کے تحت جموں خطے کے اضلاع جموں، سامبا اور کٹھوعہ کے علاوہ پنجاب کے وسیع علاقے بشمول پٹھان کوٹ آتے ہیں جو پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع ہیں۔ذرائع کے مطابق ویسٹرن کمانڈ نے دیگر فوجی فارمیشنز اور ناردرن کمانڈ کے ساتھ مل کر ‘‘آپریشن سندور’’ کے دوران اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل پی پی سنگھ کا تعلق پیراشوٹ رجمنٹ (اسپیشل فورسز) سے ہے اور وہ ان چند اسپیشل فورسز افسران میں شامل ہوں گے جو آرمی کمانڈ کی قیادت کریں گے۔ادھر نگروٹا میں قائم 16 کور کے سابق جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل سندیپ جین، جو اس وقت شمالی کمانڈ میں چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، کے پونے میں آرمی کمانڈر کی ذمہ داری سنبھالنے کی توقع ہے۔ وہ لیفٹیننٹ جنرل دھیرج سیٹھ کی جگہ لیں گے جنہیں ممکنہ طور پر ا?رمی ہیڈکوارٹر میں نائب سربراہِ فوج مقرر کیا جا سکتا ہے۔لیفٹیننٹ جنرل جین اس سے قبل امبالہ میں قائم دوم کور (کھڑگہ کور) کی کمان بھی سنبھال چکے ہیں جو مغربی محاذ پر فوج کی اہم اسٹرائیک فارمیشنز میں شمار ہوتی ہے۔اسی دوران فوج کے کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل وی ایم بی کرشنن کے کولکاتا میں قائم ایسٹرن کمانڈ کی قیادت سنبھالنے کا بھی امکان ہے۔ وہ لیفٹیننٹ جنرل رام چندر تیواری کی جگہ لیں گے جو جنوری 2024 سے اس عہدے پر فائز ہیں اور رواں ماہ ریٹائر ہو رہے ہیں۔ایسٹرن کمانڈ چین کے ساتھ لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے مشرقی سیکٹر کے علاوہ میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کرشنن اس سے قبل چین کے محاذ کے لیے قائم سترہویں کور کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت میں یہ اہم ردوبدل یکم اپریل سے نافذ ہوگا۔ تاہم جموں و کشمیر اور لداخ میں تعینات چند کور کمانڈرز کو فی الحال تبدیل کیے جانے کا امکان کم ہے کیونکہ حکومت ہند نے واضح کیا ہے کہ ‘‘آپریشن سندور’’ ابھی جاری ہے۔