سری نگر//سینئر اَفسران کی ایک ٹیم نے آج کشمیر میں محکمہ زراعت کا ایک اعلیٰ سطحی اِنتظامی معائینہ کیا جس کی سربراہی سیکرٹری ٹیکنیکل ایڈمنسٹریٹیوریفارمز، انسپکشنز اینڈ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عبدالکبیر ڈار نے کی۔ اِس معائینے میں حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اِنتظامی اِصلاحات کے رہنما خطوط پر عمل پیرا ہونے اور کشمیر کے زرعی منظرنامے کو تبدیل کرنے میں پیش رفت کا جائزہ لینے پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں نئے وضع کردہ دفتری پروٹوکول کے ذریعے شفافیت اور جوابدہی پر زور دیا گیا۔ناظم زراعت کشمیر اِقبال چودھری نے محکمہ زراعت کی طرف سے کی جانے والی اِصلاحات اور اختراعات کے بارے میں تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ محکمہ کے تمام افسران نے بذریعہ ورچیول اور ہائبرڈ موڈ شرکت کی اور محکمے میں سرکاری کام کے انعقاد کے لئے حکومت کی طرف سے وضع کردہ ہدایات اور قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ڈاکٹر عبدالکبیر ڈار نے کہا کہ یہ طریقۂ کار شراکت داروں کو زیادہ سے زیادہ فوائد پہنچانے اور اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اَقدامات کو شفاف اور مؤثر طریقے سے اَنجام دیا جائے۔ناظم زراعت نے معائینے کے دوران ٹیم کو زرعی شعبے کی سرگرمیوں، کامیابیوں اور اے آر آئی اینڈ ٹریننگز کی جانب سے وضع کردہ گائیڈ لائنز پر عمل درآمد اور اِصلاحات سے متعلق پروفارما کے بارے میں جانکاری دی۔سیکرٹری نے محکمے کی ترقی کے لئے اس طرح کے اِنتظامی معائینے کی اہمیت پر زور دیا اور مختلف لیبارٹریوں ، ٹیکنیکل سیکشنوںکے سربراہان سے بھی اِستفساری گفتگو کی اور ریکارڈ کا بھی معائینہ کیا۔ زرعی شعبے کو جدید بنانے کے مقصد سے اہم مرکزی سکیموں اور اَقدامات کو عملانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایک شفاف اور جوابدہ فریم ورک کے اندر پیداواری صلاحیت کوبڑھانے، جدید زرعی ٹیکنالوجیوں کو فروغ دینے اور جدید ترین بنیادی ڈھانچے کے قیام پر توجہ مرکوز کی گئی۔معائینے میں مختلف اہم شعبوں کا احاطہ کیا گیا جن میں اعلی پیداوار والی اقسام (ایچ وائی وِی) کا اِستعمال ،سوئیل ہیلتھ مینجمنٹ ، نامیاتی کاشتکاری کے طریقوں اور آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔ ٹیم نے پی ایم کسان، پی ایم کسان مان دھن یوجنا اور فصل بیمہ سکیم جیسی سماجی سکیموں کی عمل آوری میں نئے پروٹوکول کی تعمیل کا بھی جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ عمل کسانوں پر مرکوز اور شفاف ہو۔سیکرٹری ڈاکٹرعبدالکبیر ڈار نے ان نئے رہنما خطوط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’ہمارا مشن نہ صرف زرعی منظر نامے کو تبدیل کرنے میں اِنتظامیہ کی مدد کرنا ہے بلکہ جموںوکشمیر یوٹی کے تمام سرکاری محکموں میں شفافیت اور جوابدہی لانا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یہ نئے رہنما خطوط اے آر آئی اینڈ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ کے اِصلاحات کی رہنمائی کے عزم کا ثبوت ہے ۔اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے ہر اَقدامات حکومتی قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہوئے دیانتداری کے ساتھ اَنجام دیا جائے اور نظام میں اِصلاحات لائی جائیں۔ڈاکٹر عبدالکبیرڈار نے کہا کہ ان نئے قائم کردہ طریقہ کار کی رہنمائی میں آج کے معائینے سے مستقبل کی کاررائیوں کے لئے ایک معیار قائم ہونے کی توقع ہے اور اِس سے متعلقہ محکموں اور کنٹرولنگ اَفسران کو مدد ملے گی۔










