دن بھر قدرت کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ، وادی کے سیاحتی مقامات کی رونق واپس لوٹنے لگی
سرینگر / سی این آئی // وادی میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ ہی سیاحتی مقامات پر لوگوں کااچھا خاصہ رش دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ مقامی سیلانیوںکے ساتھ ساتھ ملکی سیاح بھی کافی تعداد میں گلمرگ،سونہ مرگ، پہلگام اور دیگر جگہوں پر بڑی تعداد میں نظر آرہے ہیں جس سے کشمیر میںسیاحتی شعبہ کی دوبارہ بحالی کے امید یں بڑھنے لگی ہے ۔ سی این آئی کے مطاق مطابق وادی کشمیر میں گرمی بڑھنے کے ساتھ ہی لوگ سیاحتی مقامات کا رُخ کررہے ہیں اور تمام سیاحتی مقامات پر لوگوں کا بھاری رش دیکھنے کو مل رہا ہے خاص کر ، پہلگام ، گلمرگ، سونہ مرگ اور دیگر جگہوں پر لوگ بڑی تعداد میں دیکھے جارہے ہیں ۔ مقامی سیلانیوں کے ساتھ ساتھ ملکی سیاح بھی وادی کا رُخ کررہے ہیںجو سیر سپاٹے کیلئے سیاحتی مقامات پر جاتے ہیں اگرچہ سیاحتی شعبہ کیلئے یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ماہ مارچ اپریل میں بھی اسی طرح لوگ سیاحتی مقامات ، ٹولپ گارڈ، مغل گارڈ ن اور بادام واری میں جوق در جوق گھومنے آئے تھے تاہم پہلگام حملے کے بعد سیاحوں کی آمد انتہائی کم ہو گئی لیکن مسلسل کوششوں کے بعد سیاحتی مقامات پر دوبار رونق لوٹ رہی ہے ۔ وادی کے تمام سیاحتی مرکز پر امسال سیاحوںکا کافی رش ہے اور دن بھر مقامی و غیر مقامی سیاح قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہو کر یہاں کی خوبصورتی کا لطف لیتے ہیں ۔مشہور سیاحت مرکز پہلگام سیاحوںکی بڑھتی تعداد سے سیاحت سے وابستہ افراد میں خوشی کی لہر پائی جا رہی ہے ۔پہلگام حملے کے بعد اگرچہ پہلگام سمیت دیگر سیاحتی مقام ویران و سنسنان پڑے تھے تاہم گزشتہ کئی دنوں سے سیاحوں کا اچھا خاصہ رش دیکھنے کو ملتا ہے اور ایسے میں توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ وقت میں سیاحوں کا یہ گراف مزید بڑھے گا اور یہاں کی سیاحتی صنعت واپس پٹری پر لوٹ آئے گی۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ وادی کشمیر میں سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے کے نتیجے میںسیاحت سے وابستہ افراد میں بھی خوشی کی لہر پائی جا رہی ہے اور انہوں نے امسال امید کی ہے کہ رواںبرس ریکارڈ سیاحوں کی آمد کے ساتھ ہی ان کی روزی روٹی بھی بہتر کمانے میںمدد ملے گی ۔










