سرینگر / /چلہ کلان کے سرد ترین دنوں میں وادی کے شمال و جنوب میں عوام کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے جبکہ شبانہ درجہ حرارت منفی رہنے کے باوجود بھی بجلی اور پانی کی عدم دستیابی نے لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کی راحت رسانی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائیںجا رہے ہیںجس کے باعث عوام میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ سردترین ایام کے دوران جہاں لوگ سردی سے ٹھٹھر گئے وہیں بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں ۔شدید سردی میں بھی بجلی او ر پانی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں عوام کو مشکلات کا سامناہے ۔ سردی کی شدت کے دوران اکثر وبیشتر علاقوں میںبجلی سرے سے ہی غائب ہے اورگھپ اندھیرا چھایاہوا ہے ۔لوگ روشنی کے علاوہ الیکٹرانک آلات کو بروئے کار لانے سے محروم ہوگئے ہیں ۔شدید سردی کے دوران نزلہ زکام کی بیماریوں میں لوگ زیادہ مبتلا ہورہے ہیں ۔کورناوائرس کے بیچ نزلہ زکام کے شکار مریض پریشان حال ہوجاتے ہیں اوران کو وبائی بیماری کی لپیٹ میں آنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے ۔سردی کے ان مشکل ایام کے دوران اشیائے خوردنی یا تو بازاروں سے غائب ہیں یا ایسی گراں بازار ی ہوئی ہے کہ لوگ اشیائے خوردنی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ۔اس طرح سے وادی کی مجموعی صورتحال کافی ابتر ہے اورلوگ ان ایام کٹھن ایام کے دوران بے بس دکھائی دے رہے ہیں ۔اس سلسلے میں شہرودیہات کے لوگ نالاں وپریشان ہیں ۔ان کا انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ ان مشکل ایام کے دوران اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے اوربجلی وپانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے جدید مشینری کو بروئے کار لایا جائے تاکہ لوگوں کے مشکلات کا ازالہ ہوسکے ۔










