Shabnam Kamili convenes Public Outreach Programme in Ganderbal

شبنم کاملی نے گاندربل میں عوامی رَسائی پروگرام کا اِنعقاد کیا

گاندربل//سیکرٹری اے آر آئی اینڈ ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ شبنم کاملی نے حکومت کے عوامی رابطہ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر آج گاندربل کا دورہ کیا اور لوگوں کے مسائل اور شکایات کا جائزہ لینے اور ان کے حل کے لئے ایک عوامی دربار کا اِنعقاد کیا۔گورنمنٹ بوائز ہائیر سیکنڈری سکول منی گام میں منعقدہ اِس پروگرام میں ممبرڈی ڈی سی لار اور ملحقہ علاقوں کے وفود نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ان وفود نے اپنی شکایات اور مطالبات پیش کئے اور ان کے فوری اَزالے کا مطالبہ کیا۔شرکأ کی طرف سے اُٹھائے گئے اہم مسائل اور مطالبات میں جاری واٹر سکیموں کی بروقت تکمیل،بیہامہ پانڈچھ روڈ کو چوڑا کرنا، چھترگل بالا روڈ کی میکڈیمائزیشن، ضلع میں نئے سیاحتی مقامات کی نشاندہی، ہائی سکول ولی وار کے لئے اضافی رہائش، تھیرو میں بینک برانچ کا قیام، آبپاشی کے مقاصد کے لئے نکاسی آب، بابا کنال کی اَپ گریڈیشن، ارہامہ اور منیگام کے علاقوں کے لئے لِفٹ اری گیشن ، ضلع میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل شامل ہیں۔متعدد نمائندوں نے ضلع میں متعدد اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل پر اِنتظامیہ کا شکریہ بھی اَدا کیا۔کیمپ میں ایڈیشنل ڈِسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر مشتاق احمد سمنانی ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر گلزار احمد، اے سی آر، جی ایم ڈِی آئی سی، اے سی ڈِی، سی پی او، مختلف اِنجینئرنگ وِنگوں کے ایگزیکٹیو انجینئروں، تحصیل دار لار اور ضلعی اِنتظامیہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔سیکرٹری موصوفہ نے عوامی دربار میں شرکت کے لئے مقامی لوگوں کی سراہنا کی اور اُنہیں یقین دِلایا کہ موجودہ اِنتظامیہ اُن کی سماجی و اِقتصادی بااِختیار کو یقینی بنانے کے لئے انتھک محنت کر رہی ہے۔اُنہوں نے شکایات اور مطالبات کو بغور سننے کے بعد شکایتوںاَزالہ کیمپ کے دوران موجود متعلقہ ضلعی افسران سے فوری جواب طلب کیا۔شبنم کاملی نے اَپنے خطاب میں شرکأ کو یقین دِلایا کہ اُن کی شکایات اور مطالبات کو مناسب کاررِوائی کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔اُنہوں نے افسروںسے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ فعال طور پر مشغول رہیں اور ان کی دہلیز پر زیادہ جوابدہ اور ذمہ دار حکمرانی فراہم کریں۔سیکرٹری موصوفہ نے تجویز پیش کی کہ چھوٹے مسائل گرام سبھا میں اُٹھائے جائیں اور جب بھی ممکن ہو ضلعی سطح پر حل کیا جائے اوراُنہوں نے کہا کہ بی ڈی اوز کو نچلی سطح سے ترقیاتی منصوبہ تیار کرنا چاہئے جس میں مقامی لوگوں کو شامل کیا جائے۔