cold wave in kashmir

شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ ،پوری وادی شدید سردی کی لپیٹ میں

سرینگر//ماہ نومبر میں ہی وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت میں نمایاں گراوٹ ریکارڈ کرنے سے پوری وادی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔سخت ترین سردیوں کے بیچ سرینگر میں رواں موسم کی اب تک سرد ترین رات درج کی گئی جبکہ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام بھی سرد ترین جگہ ریکارڈ ہوئی ۔اس دوران محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ 20نومبر تک وادی کشمیر میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے تاہم اس عرصے کے دوران مطلع ابروآلود رہنے کا بھی امکان ہے۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں اعلیٰ صبح سخت ترین دھند کے نتیجے میں ہر طرف ادھیرا جیسا چھایا تھا جبکہ گاڑیوں کو کئی گھنٹوں تک ہیڈ لائٹس کا استعمال کرناپڑا ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر میں جاری شدید سردی کی لہر کے بیچ خطہ لداخ کے قصبہ کرگل میں گزشتہ رات رواں موسم کی اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جس کے دوران یہاں کم از کم درجہ حرارت نقطہ انجمادسے کئی ڈگری نیچے ریکارڈ کیا گیا ۔ اگر چہ خطہ لداخ کے قصبہ لہہ میں رات کے درجہ حرارت میں گزشتہ رات معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی تاہم یہ پھر بھی میں سرد ترین جگہ بنی ہوئی ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی میں سردی کی شدت میں تیزی کے بیچ سرینگر میں رواں موسم کی اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سنیچروار اور اتوار سرینگر میں رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جس دوران پارہ منفی 0.9 ڈگری سینٹی گریڈ درج کیا گیا جو کہ گزشتہ رات کے مقابلے میں کم تھا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق قاضی گنڈ میں کم از کم درجہ حرارت منفی 1.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات کے منفی 1.0 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں تھا۔ مشہور سیاحتی مرکز پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح سے کرناگ میں کم از کم درجہ حرارت منفی 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ رات 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔شہر آفاق گلمرگ میں گزشتہ رات کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے منفی 2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق لیہہ میں گزشتہ رات کے منفی 7.1 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم سے کم منفی 7.2 ° C ریکارڈ کیا گیا ۔ ادھر سرینگر میں جہاں موسم سرما کی آمد سے سردی کی لہر میں شدید اضافہ ہوا ہے، وہیں علاقے کے مختلف حصوں میں مسلسل پانچ دنوں سے دھند چھائی ہوئی ہے۔دھند کا اثر گاڑیوں کی رفتار پر بھی پڑا ہے اور اکثر گاڑیوں کو صبح کے وقت کچھوے کی رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا گی۔ اسی دوران وادی کشمیر میں سردیوں کے ایام کے دوران بجلی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں لوگ مشکلات سے دو چار ہے جبکہ سردی سے بچنے کیلئے اہلیان کشمیر نے گرم ملبوسات زیر تن کرنا شروع کر دیا ہے اور سردی سے بچنے کیلئے روایتی اور جدید گرمی کے آلات کا استعمال کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔