dooran

شاہراہوں پر سفر کرنا مشکل نہیں ناممکن

بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ نے بڑے شہروں قصبوں میں سنگین رُخ اختیار کیاہے اب نجی اور مسافر بردار گاڑیوں میں شاہراہوں کی تنگی اور کمی کے باعث سفر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا جارہاہے نئی سڑکوں کی تعمیر کشادگی اور نئے سڑک منصوبوں کومسلسل التواء میں ڈالنے سے وادی کے بڑے شہروں اور قصبوں میں لوگوں کوزبردست مشکلات سے گزنا پڑرہاہے اور دور جدید میں شاہراہوں کی اہمیت کو فراموش نہیں کیاجاسکتاہے۔بہتر سڑکیں کسی بھی قوم کے محراج کے لئے پہلازینہ ثابت ہوتی ہے ۔ وادی کے بڑے شہروں قصوں میں ٹریفک دباؤ نے اب سنگین رُخ اختیار کیاہے اور بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ سے نجات حاصل کرنے کے لئے سڑکوں کی کشادگی نئی سرکیں تعمیر کرنے اور سڑکوں کی مرمت کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔صوبہ کشمیر میں گزشتہ چھ دہائیوں سے سڑکوں کی تعمیرکے سلسلے میں اگرچہ کئی طرح کے اقدامات اٹھائے گئے تا ہم آبادی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ نجی اور مسافربردار اوردیگرٹرانسپورٹ میں اس قدر اضافہ ہواہے کہ یہ سڑکیں اب کم پڑرہی ہے جسکے نتیجے میں لوگوں کاسفر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتاجارہاہے ۔شہرسرینگر کی آبادی 2011کی مردم شماری کے مطابق پانچ لاکھ کے قریب ہے اور 2020کے شہرسرینگر میں سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کی مجموعی تعداد 25لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے وادی کے د یگر نواضلاع کی آبادی کاجہاں تک تعلق ہے یہ مجموعی طور پر55لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے اور اس55لاکھ کی آبادی کواس وقت صر ف چھ ہزارکلومیٹر کی سڑکیں دستیاب ہے جبکہ مال مسافربردار گاڑیوں کی تعداد 75لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے یہ وہ غاریاں ہے جن کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق وادی کشمیرمیں ہر ایک گاڑی کوسفر کے لئے دوکلومیٹر سڑک دستیاب ہے اور سرکار کی جانب سے اس سنگین صوررتحال سے نمٹنے کے لئے بار بار کئی منصوبے تو ترتیب دیئے گئے مگر ان منصوبوں کونہ تو پائے تکمیل تک پہنچایاگیااور نہ ہی کوئی تیسراراستہ اختیار کیاکہ لوگوں کوبڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ سے کس طرح نجات دلائی جاسکے ۔سڑکو ںکی تنگی برھتے ہوئے ٹریفک دباؤ نے وادی کشمیر کے کاروبار کوجس بڑے پیمانے پرمتاثر کیاہے اس کی کہی مثال نہیں مل پارہی ہے ۔کسی قوم کو ترقی کی منزلوں پرجا نے کے لئے سڑک پہلازینہ ہواکرتاہے اوراگر یہ زینہ ہی دستیاب نہ ہو توترقی کی منزلوں پر جانے کی تمام کوششیں اور منصوبے رائیگان ثابت ہوسکتی ہے ضرورت اس امرکی ہے کہ صوبہ کشمیرمیں نئی سڑکوں کی تعمیرکاکام جنگی بنیادوں پرتعمیرکیاجائے پرانی سڑکوں کی مرمت اور کشادگی کے لئے مقررہ وقت کے اندراندراقدامات اٹھائے جائے بڑے شہروں قصبوں میں غیرقانونی پارکنگ فٹ پاتھوں پرقبضہ ہٹانے کے لئے ٹھوس بنیادوں پراقدامات اٹھائے جائے تاکہ وادی کشمیرکی سترلاکھ کی آبادی جس نگین صورتحال سے گزررہی ہے انہیں راحت فراہم کی جاسکے ۔