Inflation

شاہرائیں بند ہوتے ہی اشیائے خوردنی کی قیمتوں میںاضافہ معمول

اس سنجیدہ نوعیت کے مسئلے کا ازالہ کرنا انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہونا ناگزیر

سرینگر / / وادی کے طول وعرض میں بارشوں اور برف باری کے بیچ سرینگر جموں شاہراہ کاحسب معمول بند ہونے کے افشاء کے فوراً بعد ناجائز منافع خور تاجر وں نے اشیائے خوردنی اور ادویات کی قیمتوں میں بغیر کسی سرکاری حکم نامہ کے اضافہ کرنا شروع کردیتے ہیں ۔جس سے لوگوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے ۔اس سلسلے میں مختلف علاقوں سے لوگوں نے کشمیر پریس سروس کو بتایا کہ گذشتہ برسوں کی صورتحال سے کاروباری سرگرمیاں متاثر رہنے کی وجہ سے معاشی حالت کافی ابتر ہوئی ہے اور خریدوفروخت کی سکت لوگوں میں کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اور برفباری سے شاہراہ کے بند ہونے سے پہلے ہی اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں روز مرہ کی ضرورت ہیںاور ہر خاص وعام ان اشیائے کو استعمال کرنے پر مجبور ہے کیونکہ پکوان انہی چیزوںپر تیار کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چند دن قبل مرغوں اور انڈوں کی جو قیمتیں تھیں ان میں بھی اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کی قیمتیں آسمان کو اب چھورہی ہیں اور کہا کہ دائمی مریض تسلسل کے ساتھ مخصوص ادویات لیتے ہیں ان کی قیمتوں میں ایسا اضافہ ہوا ہے کہ مریض یا ان کے افراد خانہ میں سے ذمہ دار ان ادویات کو فروخت کرنے کی سکت نہیں رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں اشیائے خوردنی اورادویات کی قیمتوں میں اعتدال برقرار رکھنے کی ضرورت ہے لیکن ان کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کیا جارہا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے سرکار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر شاہراہ بند ہونے سے درآمدی اور برآمدی مال کا سلسلہ بند ہوا تو اشیاء اور ادویات کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ان مشکل اور کٹھن حالات میں لوگ زندگی بسر کرسکیں گے ۔