شاہد بڈگامی کی یاد میںکلچرل اکیڈیمی کی طرفسے تعزیتی مجلس کا انعقاد

شاہد بڈگامی کی یاد میںکلچرل اکیڈیمی کی طرفسے تعزیتی مجلس کا انعقاد

اکیڈیمی کے افسران اور وادی کے نامور ادباء نے شاہد بڈگامی کو کیا خراج پیش

سرینگر // جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کی جانب سے آج کانفرنس ہال، ٹیگور ہال سرینگر میں معروف کشمیری شاعر و ادیب، مرحوم شاہد بڈگامی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی اجلاس کا اہتمام کیا گیا، جس میں علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت ممتاز محقق و نقاد پروفیسر محمد زمان آزردہ نے کی، جبکہ معروف مصنف و مورخ جی آر حسرت گڈا مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے قریب پرموجود تھے۔ ایڈیشنل سیکریٹری کشمیر کلچرل اکیڈیمی عدیل سلیمبھی ایوان صدارت میں تشریف فرما تھے۔تقریب کے آغاز میں مرحوم شاہد بڈگامی کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی ہوئی۔تقریب میں شکیل الرحمٰن، جسٹس نذیر فدا، مشتاق احمد مشتاق، محمد امین بھٹ، محمد یوسف شاہین، رحیم رہبر، ایوب صابر، نذیر آزاد، امداد ساقی، شہباز ہاکباری، بشیر چراغ، نسیم شافعی، گلاب سیفی، شبنم رفیق، عنایت گل، ارشاد حسین اور عبدالغفار لابرو نے شاہد بڈگامی کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے انہیں ایک حساس دل رکھنے والا، فکر انگیز اور گہری بصیرت کا حامل شاعر قرار دیا۔مقررین نے شاہد بڈگامی کے ادبی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی ابتدائی شاعری ہی میں ایک منفرد لہجہ جھلکتا تھا،

جو رفتہ رفتہ جدید کشمیری شاعری کی ایک توانا آواز میں ڈھل گیا۔ ان کی شاعری نے کلاسیکی روایت اور جدید فکری رجحانات کو اس خوبی سے یکجا کیا کہ وہ کشمیری عوام کی اجتماعی امنگوں اور جذبات کی ترجمان بن گئی۔اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ شاہد بڈگامی کی ادبی خدمات صرف شاعری تک محدود نہیں تھیں۔ وہ ایک فعال نقاد اور فکری رہنما بھی تھے، جنہوں نے کشمیری ادبی مکالمے کو نئی سمتیں دیں۔ ان کی علمی مجلسوں میں شرکت، نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی اور ادبی رسائل میں شمولیت نے وادی کے ادبی منظرنامے کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔تقریب میں وادی کی مختلف علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کی نظامت ڈاکٹر گلزار احمد راتھر اسسٹنٹ ایڈیٹر (کشمیری)، جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز نے انجام دی۔