ایس سی اِی آر ٹی بمنہ میں یوٹی سطح کی سائنس و ٹیکنالوجی نمائش اور سمینار کا اِفتتاح کیا
سری نگر//ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم اور فائنانشل کمشنر شانت منو نے سٹیٹ کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ ( ایس سی اِی آر ٹی) کے صوبائی دفتر بمنہ سے ایک اِختراعی رَسائی اَقدام’ایس سی اِی آر ٹی آن وہیلز‘ کو جھنڈی دِکھا کر روانہ کیا۔شانت منو جو ڈائریکٹر ایس سی اِی آر ٹی بھی ہیں ، نے ایک روزہ ماڈل نمائش ’’راجیہ ستاریہ بال ویگیانک پردرشنی(آر ایس بی وِی پی)2024-25‘‘ کا اِفتتاح کیا اور ’ ایس سی اِی آر ٹی آڈیٹوریم میں منعقدہ ’دیرپا مستقبل اور صحت کے لئے ملیٹس‘‘ کے موضوع پر ایک سمینار کی صدارت کی۔یہ تقریب ایس سی اِی آر ٹی جموں و کشمیر کی طرف سے 52ویں آر بی وِی پی کے تحت منعقد کی گئی جس کی سرپرستی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی اِی آرٹی ) نئی دہلی نے کی۔ اِس کا مقصد طلبأ میں سائنسی مزاج اور اختراعی صلاحیت کو فروغ دینا تھا۔اس پروگرام کا مرکزی موضوع’’دیرپا مستقبل کے لئے سائنس اور ٹیکنالوجی‘‘ جس میںخوراک، صحت اور صفائی، ٹرانسپورٹیشن و مواصلات، ریاضیاتی ماڈلنگ و کمپیوٹیشنل تھنکنگ، قدرتی کاشتکاری،ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ویسٹ مینجمنٹ اور ریسورس مینجمنٹ ذیلی موضوعات شامل تھے۔
ایس سی اِی آر ٹی کشمیر ڈویژن نے قومی تعلیمی پالیسی۔ 2020 کے پانچ برس مکمل ہونے کی خوشی میں ’ ایس سِی اِی آر ٹی آن وہیلز‘ کے نام سے ایک مقامی سطح پر رابطہ پروگرام شروع کیا جس کا مقصد بیداری کو فروغ دینا، کمیونٹی کی شمولیت کو بڑھانااور ایس سی اِی آر ٹی کی زمینی شناخت کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ اَقدام ایس سی اِی آر ٹی کی خدمات، مشن، اور پیغامات کو براہ راست سکولوں اور کمیونٹیوں تک پہنچاتا ہے۔شانت منو نے سمینار میں مہمانِ خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے اِس طرح کے بامقصد اور کمیونٹی پر مبنی اقدامات پر منتظمین کو سراہا۔اُنہوں نے مختلف اَضلاع کے طلبأ کے تیار کردہ سائنسی ماڈلوں کا معائینہ بھی کیا اور ان سے بات چیت کی۔شانت منو نے کہا،’’میں طلبأ کی شاندار تخلیقی صلاحیتوں اور اِختراعات سے بے حد متاثر ہوا ہوں۔ آج پیش کئے گئے ماڈلز اہم مسائل کی گہری سمجھ بوجھ اور نوجوان ذہنوں کی روشن قیادت کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘شانت منو نے آر ایس بی وِی پی کو باصلاحیت پلیٹ فارم قرار دیا اور اساتذہ کی محنت و رہنمائی کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا،’’اِس میں کوئی شک نہیں کہ آر ایس بی وِی پی اختراع کے فروغ کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے اوریہاں کے ماہرین تعلیم نوجوان مفکرین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے فکری اور اخلاقی نشو و نما کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا،’’ایک انسان کی پہچان دو چیزوں ایک اس کے خیالات اور دوسرا اس کے طرزِ عمل سے ہوتی ہے ۔ خیالات ہمارے ویژن اور اِدراک کو تشکیل دیتے ہیں جبکہ طرزِ عمل ان خیالات کو عمل میں لانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔‘‘
شانت منو نے نواچار (جدت طرازی) کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے ’’نئی سوچ اور نئے طرزِ عمل کے ذریعے مثبت تبدیلی کا ذریعہ‘‘ قرار دیا جو دنیا کو نئی سمت دے سکتا ہے۔اُنہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ سکولوں میں اِختراعی سوچ اور باہمی تعاون کے ساتھ سیکھنے کو فروغ دیتے رہیں اور کہا کہ اس طرح کی تخلیقی صلاحیتوں کو تسلیم اور انعام دینا چاہیے۔اِس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے طالب علموں کے تیار کردہ ڈیزائنوں او رپروجیکٹوں کو اُجاگر کرتے ہوئے ’’ انوویٹیو برلائنس‘‘ کے عنوان سے ایک مجموعہ بھی جاری کیا۔تقریب میں سیکرٹری بی او ایس اِی شیخ غلام حسن، جوائنٹ ڈائریکٹر جے کے ایس سی اِی آر ٹی سیّد شبیر اور دیگر معززین نے بھی خطاب کیا۔ کئی پروفیسروں اور سرپرستوں کو تعلیم کے میدان میں شاندار خدمات پر اعزازات سے نوازا گیا۔منتظمین نے اعلان کیا کہ جو طلبأ اس سطح پر کامیاب ہوں گے وہ جموں و کشمیر کی نمائندگی قومی سطح کی سائنسی نمائش اور سمینار میں کریں گے جس سے سائنسی تحقیقات اور اِختراع کو مزید فروغ ملے گا۔










