جموں//شاعری ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں اتحاد، ہم آہنگی اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں اہم کردار اَدا کرتی ہے۔اِن باتوں کا اِظہار سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبد الرحیم راتھر نے ابھینو تھیٹر جموںمیں منعقدہ باوقار آل اِنڈیا اُردو مشاعرہ سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشاعرہ کا اِنعقاد جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز نے کیا تھا جس میں ملک بھر کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے شرکت کی اور مختلف زبانوں اور خطوں کی نمائندگی کی۔سپیکر موصوف نے اَپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مشاعرے کا بنیادی مقصد شاعری کی عالمی زبان کے ذریعے ہندوستان کی شاندار تنوع کا جشن منانا ہے جو مختلف پس منظر اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو آپس میں جوڑنے کا کام کرتی ہے۔اُنہوں نے اُردو شاعری کے سماجی ہم آہنگی، بھائی چارے اور ثقافتی اتحاد کو فروغ میں کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ اس نوعیت کے پروگرام فن اور ادب کو فروغ دیتے ہیں، معاشرے کے ثقافتی تانے بانے کو مضبوط کرتے ہیںاور مشترکہ خوشیوں کا تجربہ پیدا کرتے ہیں۔سپیکر عبدالرحیم راتھر نے کلچرل اکیڈیمی کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ اِدارہ سینئر اور نو آموز شاعروں دونوں کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ ایسی شاعری پیش کرتے ہیں جولوگوںکے دِلوں کو چھو لیتی ہے اور اکثر محبت، اِنسانیت اور اتحاد کے پیغامات پر مبنی ہوتی ہے۔اُنہوںنے کہا کہ آل اِنڈیا اُردو مشاعرہ ایک اہم ثقافتی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے جو اَدبی اعلیٰ معیار کو فروغ دینے اور ملک کے مجموعی ثقافتی ماحول کو مضبوط کرنے کے لئے کام کر رہا ہے۔یہ مشاعرہ 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کیا گیا جس میں جموں و کشمیر کے علاوہ دیگر ریاستوں اور یوٹیز سے تعلق رکھنے والے نامور شعرا ٔنے شرکت کی۔ملک بھر سے آئے ہوئے نامور شاعروں نے دِلفریب اور مسحور کن شاعری سے سامعین کو محظوظ کیا جن میں معین شادابؔ (دہلی)، جیوتی آزاد ؔ(گوالیار)، عمران فیضؔ (ناگپور)، اسماعیل نظرؔ (اندور)، اسرار چندیریؔ (مدھیہ پردیش)، کلیم قیصرؔ (گورکھپور)، موہن منتظرؔ (ناگپور)، ڈاکٹر انا دہلویؔ (دہلی)، ڈاکٹر ماجد دیوبندیؔ (دہلی) اور خوشبیر سنگھ شاد ؔ(جالندھر) شامل تھے۔مقامی شاعروں نے بھی فکر انگیز اور پُراثر کلام پیش کئے۔ قابلِ ذِکر شرکأ میں پرتپال سنگھ بیتابؔ (جموں)، امیر سمبری ؔ(بھدرواہ)، ڈاکٹر دلیپ کمار شرما ؔ(جموں)، لیاقت علی جعفریؔ (جموں)، احمد شناس ؔ(جموں)، پرویز گلشن ؔ(اننت ناگ)، ڈاکٹر احمد منظورؔ (بارہمولہ)، ڈاکٹر نذیر آزادؔ (پلوامہ) اور رخسانہ جبینؔ (سری نگر) شامل تھیں۔ہر شاعر نے کلاسیکی روایت اور عصری حسیت کے حسین امتزاج کے ساتھ روح پرور شاعری پیش کر کے اُردو اَدب کی لازوال اہمیت کو ایک بار پھر اُجاگر کیا۔پرنسپل سیکرٹری کلچر برج موہن شرما نے اِستقبالیہ خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح کی اَدبی محفلیں تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ، نئے خیالات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستان کے قیمتی ثقافتی و لسانی ورثے کے تحفظ میں نہایت اہم کردار اَدا کرتی ہیں۔ایڈیشنل سیکرٹری کلچرل اکیڈیمی لال چند نے شکریہ کی تحریک پیش کی اور مہمانِ خصوصی، شعرأ، معززمہمانوں اور سامعین و ناظرین کا شکریہ اَدا کیا جن کی بدولت یہ تقریب شاندار کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔










