ٹیکس تنازع پر مٹن ڈیلرز کی سپلائی معطل کرنے پر غور
سرینگر/وی او آئی//پنجاب میں بھیڑ اور بکریوں سے لدے ٹرکوں سے غیر قانونی ٹیکس وصولی کا تنازعہ، کشمیری مٹن ڈیلروں کی سپلائی بحالی کے باوجود حل نہ ہوسکا۔ چند روز قبل اس مسئلے پر سپلائی مکمل طور پر معطل کی گئی تھی، جس سے وادی میں گوشت کی شدید قلت اور شادی بیاہ کے پروگرام متاثر ہوئے۔ بعد ازاں جموں و کشمیر انتظامیہ اور پنجاب کے افسران کے درمیان بات چیت کے بعد پنجاب حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ غیر قانونی ٹیکس وصولی بند کی جائے گی اور اہم ناکوں پر پنچایتی افسران کو نگرانی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔تاہم مٹن ڈیلروں کا کہنا ہے کہ اب تک نہ تو تمام اہم ناکوں پر افسران کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے اور نہ ہی ٹیکس وصولی کا سلسلہ رکا ہے۔ ایک ڈیلر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “یہ صورتحال ’گْر گلوانس حوالہ کرن‘ (بکری کو قصائی کے حوالے کرنا) کے مترادف ہے، کیونکہ جن محکموں کو نگرانی کا اختیار دیا گیا ہے وہ ماضی میں بھی ٹھیکیداروں سے ملی بھگت کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔”مٹن ڈیلروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاملہ فوری طور پر حل نہ ہوا تو وہ ایک بار پھر سپلائی معطل کرنے پر مجبور ہوں گے، جس سے وادی میں خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں گوشت کی قلت مزید سنگین ہو جائے گی۔ شہری حلقوں اور شادی والے گھرانوں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ حالیہ دنوں کی طرح اگر سپلائی رک گئی تو قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہوگا۔س ضمن میں کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم کامیابی نہ مل سکی۔ ڈیلروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور پنجاب حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اس کا تعاقب کر کے مستقل حل نکالا جائے۔










