سری نگر//ہوم سکریٹری اجے بھلا نے نئی دلی میں منعقدہ ایک تقریب میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی خدمات کر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جموں و کشمیر میں بہت سے کٹر جنگجوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں سیکورٹی صورتحال کو یقینی بنانے اور امن کی فضا قائم کرنے میں قابل ستائش کام انجام دے رہے ہیں۔کے این ایس کے مطابق مرکزی ہوم سیکرٹری اجے بھلا نے نئی دلی میں ملک کے سب سے بڑے نیم فوجی دستے کے یوم بہادری کے پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں بڑے پیمانے پر تشدد کی توقع تھی لیکن جموں و کشمیر پولیس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) نے اچھے تعاون کا مظاہرہ کیا اور تشدد پر بڑی حد تک قابو پایا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے اتحاد کو یقینی بنانے میں سی آر پی ایف کا بہت بڑا کردار ہے جبکہ انہوں نے جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران کئی کٹر جنگجوں کو مارا اور ساتھ ہی میں سی آر پی ایف اور دیگر فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کیا۔ انہوں نے کہا کہ “جموں و کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے درمیان تعاون بہترین رہا ہے اور یہ فائدہ مند بھی رہا ہے،” جنوبی دلی کے ایک کیمپ میں فورس کے جوانوں اور افسران سے خطاب کرتے ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ سی آر ایف جوانوں کی “محنت” کی وجہ سے ہی بہت سے سیاح کشمیر کا دورہ کر رہے ہیں اور انکی بدولت ہی مرکز کے زیر انتظام علاقے میں “حفاظت کا احساس” بھی ہوتا ہے۔ہوم سیکریٹری نے مزید کہا کہ جموں کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کی اچھی تعیناتی اور کارکردگی کے ساتھ ہی لوگ جانتے ہیں کہ وہ محفوظ طریقے سے کشمیر جا سکتے ہیں.۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لیے ہوائی پروازیں بھری ہوئی ہوتی ہے اور سیاح بنا خوف کے کشمیر کے دورے پر جارہے ہیں اور یہ صورتحال دیکھ کر ہم اس کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فورس کو داخلی سلامتی کے متعدد چیلنجوں سے نمٹنے میں مہارت حاصل ہے، چاہے وہ انسداد دہشت گردی ہو، شورش ہو یا بائیں بازو کی انتہا پسندی کا چلینج ہو۔ بھلا نے کہا”امن و امان کے حالات سے نمٹنے میں سی آر ایف کی عوامی امیج اچھی ہے اور جب بھی کوئی چیلنج ہوتا ہے تو وزارت داخلہ کو ریاستوں سے آپ کی فورس تعینات کرنے کا زیادہ سے زیادہ مطالبہ ہوتا ہے۔کے این ایس کے مطابق انہوں نے سی آر ایف کمانڈروں سے کہا کہ وہ داخلی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کے دوران “مہارت کے ساتھ بہترین طاقت” کا استعمال کریں اور انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ فورسز کشمیر میں جون سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا کے لئے اچھی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ہوم سیکریٹری نے فوری نوٹس پر ایک تنازعہ علاقہ سے دوسرے میں منتقل ہونے پر سی آر ایف کی تعریف کی جبکہ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات جب آپ کسی کام کے لئے پہنچتے ہیں، وہاں کوئی سہولت نہیں ہوتی ہے اور آپ کو کسی اسکول یا کسی معمولی جگہ پر رہنا پڑتا ہے اور کچھ دیر بعد پھر مقامی انتظامیہ سہولیات فراہم کرتی ہے لیکن ہمیں (سی آر پی ایف سے) کبھی شکایت نہیں آئی اور نہ ہی انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی حالانکہ یہ بہت مشکل ہے لیکن آپ کی تربیت بہت اچھی ہے اور یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔وزارت داخلہ کے اعلیٰ آفیسر نے تقریب کے دوران 97 اہلکاروں کو بعد از مرگ بہادری کے تمغوں سے بھی نوازا اور یہ گجرات میں سردار پوسٹ پر 9 اپریل 1965 کی جنگ کی یاد میں ہے اور تقریباً 3.25 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل سی آر پی ایف ہر سال ’یوم بہادری‘ مناتی ہے اور اس فورس کی طرف سے لڑائی، جو اس وقت سرحدی حفاظت کے فرائض کے لئے تعینات تھے کو ملک کی عسکری تاریخ کے شاندار بابوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جب فورس کی صرف دو کمپنیاں تقریباً 150 اہلکار اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور پاکستانی حملے کو پسپا کیا اور اسی سال 8-9 اپریل کی درمیانی رات کو پاکستان کی 51ویں انفنٹری بریگیڈ کے 3500 جوانوں اور 18 پنجاب بٹالین، آٹھ فرنٹیئر رائفلز اور چھ بلوچ بٹالین نے چوری چھپے ایک آپریشن کوڈ “ڈیزرٹ ہاک”نام کے تحت سردار اور ٹاک پوسٹوں پر بیک وقت حملہ کیا تاہم انہوں نے کہا کہ سی آر پی ایف کی طرف سے جوابی کارروائی میں دیکھا گیا کہ عددی اور ہتھیاروں سے لیس پاکستانی فورسز پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے اور پیچھے دو افسران سمیت اپنے سپاہیوں کی 34 لاشیں بھی چھوڑ دیں جبکہ چار پاکستانی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا گیا تاہم اس لڑائی میں سی آر پی ایف کے چھ جوانوں نے عظیم قربانی دی اور پوسٹ کو بچا لیا گیا۔










