سری نگر// سیکرٹری سیاحت و ثقافت سرمد حفیظ نے محکمہ کے شراکت داروں اور اَفسران کی ایک مشترکہ میٹنگ میں کشمیر کے سیاحتی منظرنامے کا جائز ہ لیا۔سیکرٹری سیاحت میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جموں وکشمیر یوٹی میں تیز سیاحتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے پر اطمینان کا اِظہار کیا جس کے لئے اُنہوں نے شراکت داروں اور محکمہ کی تعریف کی ۔اُنہوں نے گذشتہ ایک برس کے دوران ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا ہے ۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس برس سیاحوں کی تعداد ریکارڈ حد سے تجاوز کرے گا۔سیکرٹر ی موصوف نے کہا کہ وہ کسی مخصوص یونٹ ہولڈر کو اس مطالبہ کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھانے دیں اور قیمت کے ٹیگ تصور سے باہر نہ لگائیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف اس مخصوص یونٹ کی بد نامی ہوگی بلکہ طویل مدت میں پوری مقامی سیاحتی صنعت کو بھی نقصان پہنچے گا۔سرمد حفیظ نے کہا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران محکمہ اور شراکت داروں کی اِجتماعی کوششوں اور محنت کا ثمر ملا ہے اور موجودہ ترقی اِنہی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔ تاہم اُنہوں نے شراکت داروں کو متنبہ کیا کہ کسی بھی یونٹ ہولڈر کو ایسا کچھ کرنے کی اِجازت نہیں دی جانی چاہیے جو بڑھتی ہوئی قیمتوں ، دھوکہ دہی یا ٹائوٹنگ کے معاملے میں مقامی سیاحت کی صنعت کی بد نامی کا باعث ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی مہمان نوازی اور دیکھ ریکھ کرنے والی فطرت کشمیر کی سیاحت کے یو ایس پی میں سے ایک ہے جسے ہر قیمت پر محفوظ اور برقرار رکھا جانا چاہیے۔سرمد حفیظ نے شراکت داروں کو مطلع کیا کہ سیاحوں کے قیام اور دِلچسپی کو بڑھانے کے لئے محکمہ نے 75 بہترین مقامات کی نشاندہی ، سیاحوں اور مختلف مقامات کے لئے سرگرمیوں کے دائرہ کار میں اضافہ اور جموںوکشمیر یوٹی میں مہم جوسیاحت کوفروغ دینے جیسے بہت سے اہم اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سردیوں کے دوران سونہ مرگ اور دودھ پتھری جیسے مقامات کو کھولنے کے محکمے کے فیصلے کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے مہینوں میں اچھی تعداد میں سیاح آئیں گے اور شراکت داروں سے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مقامی مہمان نوازی کی اعلیٰ روایات کے مطابق ثابت کریں۔سرمد حفیظ نے کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ شراکت داروں کے ساتھ مل کرجموںوکشمیر یوٹی کی سیاحتی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے۔سیاحتی شراکت داروں نے بہت سے مسائل سیکرٹری سیاحت کے گوش گزار کئے اور ان کے ازالے کا مطالبہ کیا۔میٹنگ میں محکمہ کے سینئر افسران اور سیاحت کے مختلف تجارتی اداروں کے نمائندے موجود تھے۔










