سری نگر/ /پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار اور بہبود کساناں و باغبانی محکمے نوین کمار چودھری نے آج یہاں ایگر ی کلچرکمپلیکس لا ل منڈی میں جے اینڈ کے ایڈوائزری بورڈ فار ڈیولپمنٹ آف کسان ( اے بی ایف ڈی کے) کے کشمیر میں مقیم نئے مقرر کردہ ممبران کے ساتھ کسان سمیلن و استفساری میٹنگ منعقد کی۔ میٹنگ میں وائس چانسلر سکاسٹ ۔کے پروفیسر نذیر احمد گنائی ، سیکرٹری جے اینڈ کے اے بی ایف ڈی کے عبدالحمید وانی ، ڈائریکٹر جنرل ہارٹی کلچر کشمیر ، کشمیر صوبے کے مختلف محکموں زراعت ، صنعت وحرفت ،ریشم ، بھیڑ پالن ، فلوری کلچر،ماہی پروری اور دیگر ڈائریکٹران کے علاوہ صوبہ کشمیر کے جے اینڈ کے اے بی ایف ڈی کے کے نئے مقررہ کردہ ممبران نے شرکت کی۔دورانِ سمیلن و استفساری میٹنگ بورڈ ممبران سے زمینی سطح پر حکومت کی سکیموں اور پالیسیوں کے بارے میں تفصیلی فیڈ بیک حاصل کیا گیا جو کہ نفاذ کے مختلف مراحل میں ہیں۔میٹنگ میں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی کے لئے مختلف سکیموں اور اِقدامات کی عمل آوری میں درپیش مسائل پر بھی غور وخوض ہوا۔پرنسپل سیکرٹری جو ایڈوائزری بورڈ کے وائس چیئرمین بھی ہیں نے استفساری میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے ترقی پسند کسانوں سے کہا کہ وہ یہاں کے مختلف محکموں کے سے لاگو کی گئی مختلف سکیموں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں۔ اُنہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ تجارتی یونٹوں کو قائم کرنے کے لئے زراعت اور باغبانی جیسے روایتی شعبوں کے بجائے فلوری کلچر اور ڈیری فارمنگ جیسے دیگر شعبوں میں امکانات تلاش کریں۔پرنسپل سیکرٹری نے زراعت اور فلوری کلچرکے ڈائریکٹران سے کہ اکہ وہ فلوری کلچر کی پیداوار کو باہر کی منڈیوں تک پہنچانے کے لئے پرواز سکیم کو بڑھانے کے اِمکانات تلاش کرین ۔ اُنہوں نے ایم ڈی جے کے ایچ پی ایم سی کو فلوری کی پیداوار کی مارکیٹنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے لئے کامن سروس سینٹر کے قیام کے اِمکانات تلاش کرنے کی بھی ہدایت دی۔پرنسپل سیکرٹری نے بورڈ کے اراکین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ یہاں زراعتی شعبے کو آسان بنانے اور فروغ دینے کے لئے کام کررہا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں حکومت نے یہاں زراعت اور اس سے منسلک شعبوں کی ترقی کے لئے متعدد اقدامات شروع کئے ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نوین چودھری نے اِس بات پر روشنی ڈالی کہ جموں وکشمیر حکومت کا نیوزی لینڈ کے ساتھ حالیہ اشتراک سے یہاں بھیڑ پالن شعبے کی ترقی میں بہت مدد ملے گی ۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ ہم طلباء کے تبادلے کے علاوہ زرعی تحقیق اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لئے جموںوکشمیر کی زرعی یونیورسٹیوں کے نیوزی لینڈ کے ساتھ اشتراک کے امکانات بھی تلاش کر رہے ہیں۔پرنسپل سیکرٹری نے بورڈ کے اراکین پر زور دیا کہ وہ ڈیری فارمنگ، ٹراؤٹ فش فارمنگ جیسے دیگر شعبوں کی تلاش کے لئے کسان برادری میں بیداری پیدا کرنے کے لیے دوسرے ٹھوس اقدامات کریںاورانہوں نے کہا کہ ٹراؤٹ فش فارمنگ سیکٹر میں باغبانی شعبہ جتنا بڑا بننے کی صلاحیت ہے اور اس صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔پرنسپل سیکرٹری نے اِس بات پر مزید زور دیا کہ پولٹری بھیڑ پالن اور دیگر شعبوں میں بہتری کی کافی گنجائش ہے اور انہیں اس انداز میں تیار کیا جانا چاہیے تاکہ ان شعبوں کی مصنوعات کی درآمد کو یہاں کم کیا جاسکے۔ادی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے بورڈ ارکان نے پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ تبادلہ خیال کیا اور اُنہوں نے کسان برادری کو درپیش متعدد مسائل اور خدشات سے پرنسپل سیکرٹری کو آگاہ کیا ۔ اُنہوں نے زراعتی ترقی پر اَپنے تجربات بھی شیئر کئے اور یہاں اس شعبے کو فروغ دینے کے لئے تجاویز بھی دیں۔ پرنسپل سیکرٹری نے جموںوکشمیر میں زرعی شعبے کی ترقی کے بارے میں ان کے قیمتی تجاویز اور خیالات کے لئے بورڈ اراکین کی تعریف کی اور انہیں یقین دِلایا کہ محکمہ کاشت کاری برادری کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔واضح رہے کہ یہ کسان سمیلن و استفساری میٹنگ اِس مقصد کے ساتھ منعقد کی گئی تھی کہ زراعت اور متعلقہ شعبوں کے اَفسران کا کشمیر صوبہ کے بورڈ ممبران کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جائے اور ان سے حکومت کی سکیموں اور پالیسیوں کے بارے میں رائے حاصل کرنے کے علاوہ بات چیت کی جائے ۔










