سری نگر//سیکرٹری دیہی ترقی محکمہ ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نےسری نگر میں ’’پنچایت ترقیاتی منصوبہ اور منریگا کنورجنسی‘‘ پر ایک روزہ یوٹی سطحی ورکشاپ کا اِفتتاح کیا۔ورکشاپ میں ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر کشمیر محمد اکبر وانی، ڈائریکٹر جنرل فائنانس سجاد حسین گنائی، ڈائریکٹر آر ڈی ڈی کشمیر شبیر حسین، ڈائریکٹر پنچایتی راج شیام لال،ڈائریکٹر ہار ٹی کلچر کشمیر ظہور احمد، مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن ڈاکٹر جی این ایتو، ایڈیشنل سیکرٹری وسیم راجا، ڈپٹی سیکرٹری شیتل پنڈتا، شراکت دار محکموں کے سربراہان اور دیگر اہم افسران نے شرکت کی۔ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری نے اَپنے خطاب میں گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان (جی پی ڈِی پی) کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور مجموعی ترقیاتی نقطہ نظر کو حاصل کرنے میں متعدد محکموں کے کردار پر زور دیا۔اُنہوں نے مشترکہ ترقیاتی منصوبے کی جانب اِجتماعی کوششوں پر اطمینان کا اِظہار کیا اور آگے کے چیلنجنگ سفر کا اعتراف کیا۔سیکرٹری نے زراعت، تعلیم اور جنگلات جیسے محکموں کی تکنیکی مہارت سے فائدہ اُٹھانے اور عوامی بھلائی کے لئے زیادہ سے زیادہ اثرات مرتب کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے مجموعی ترقی اور دیرپایت کے قومی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ فیلڈ سطح کے اَقدامات کے لئے اِختراع اور حمایت کی ضرورت پر زور دیا۔ڈائریکٹر دیہی ترقی کشمیر شبیر حسین بٹ نے ورکشاپ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں (جی پی ڈِی ٹی) کی تیاری محض ایک انتظامی کام سے کہیں زیادہ ہے۔اُنہوں نے اسے دیہی علاقوں میں معاشی ترقی اور سماجی مساوات کے لئے سنگ بنیاد قرار دیا۔ اُنہوںنے جامع اور مؤثر منصوبوں کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ محکموں اور اَفسروںکی فعال شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے لائن ڈپارٹمنٹوں پر زور دیا کہ وہ جی پی ڈِی پی کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کامیابی کے لیے شراکت داروں کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔ڈائریکٹر پنچایتی راج شیام لال نے گرام پنچایت ڈیولپمنٹ پلان (جی پی ڈِی پی) کے عمل کو آسان اور بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے کئی کلیدی حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا جن کا مقصد دیہی ترقی کی منصوبہ بندی میں ہم آہنگی، کارکردگی اور تاثیر کو بہتر بنانا ہے۔اُنہوں نے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور انتظام کو آسان کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے پنچایت ڈیولپمنٹ اِنڈکس (پی ڈِی آئی) پورٹل پر درست ڈیٹا جمع کرنے اور اَپ ڈیٹ کرنے میں لائن محکموں کو فعال طور پر شامل کرنے کی وکالت کی۔ ورکشاپ میں متعدد تکنیکی سیشنوں کا اِنعقاد کیا گیا۔ورکشاپ کے دوران ڈی جی فائنانس سجاد حسین گنائی نے یو ٹی فنڈڈ سکیموں کو جی پی ڈِی پی کے ساتھ ضم کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔مزید برآں، ایڈیشنل سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج وسیم راجا نے مہاتما گاندھی نریگا کے تحت مربوط منصوبہ پر توجہ مرکوز کی۔ اِمپارڈ جموں و کشمیر کی فیکلٹی ممبر ڈاکٹر شفیعہ وانی نے جی پی ڈِی پی کی تیاری میں شامل چیلنجوں اور حکمت عملیوں پر روشنی ڈالی اور اِٹگریٹیڈ جی پی ڈِی پی کی تشکیل میں سہولیت فراہم کرنے کے لئے متعلقہ محکموں سے توقعات پر زور دیا۔دیہی ترقی و پنچایتی راج کے ماہر شیبابرتا کار نے جی پی ڈِی پی کی موضوعاتی علاقے کے لحاظ سے تیاری پر ایک پرزنٹیشن پیش کی۔ورکشاپ میں ایس پی آر سی، ڈی پی آر سی ٹیم اور محکمہ کے دیگر اَفسروںنے بھی شرکت کی۔










