آمداورروانگی کے وقت’ بائیومیٹر ک حاضری‘کویقینی بنائیں
سری نگر//حکومت نے سیول سیکرٹریٹ ملازمین کو آمداورروانگی کے وقت بائیومیٹر ک نظام کے تحت اپنی حاضری کویقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے سیکرٹریٹ میں تعینات اعلیٰ افسروں سے کہاہے کہ وہ ماہ اکتوبر اوراسکے بعداپنے ماتحت محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں ’ بائیو میٹرک حاضری کی رپورٹ‘ حاصل کرنے کے بعدہی نکالیں۔جے کے این ایس کے مطابق کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ منوج کمار دویدی (آئی اے ایس )کی جانب سے 16ستمبر2021کوجاری کردہ سرکیولرزیرنمبر36-JK(GAD)آف2021میں کہاگیاہے کہ فرائض کی طرف وقت کی پابندی کو یقینی بنانے کیلئے ’ چہرے کی بایو میٹرک شناخت کا نظام‘سول سیکرٹریٹ ، سرینگر اور سول سیکریٹریٹ ، جموں کے احاطے میں نصب کیا گیا ہے تاکہ سیکرٹریٹ ملازمین کی آمد اور روانگی کی نگرانی کی جاسکے۔ تاہم ، یہ نوٹ کیا گیا ہے کہ کچھ ملازمین’ چہرے کی بایو میٹرک شناخت کا نظام یاسسٹم‘ کے ذریعے اپنی حاضری کو نشان زد نہیں کر رہے ہیں ، جبکہ کچھ ایسے ملازمین بھی ہیں جو ابھی تک سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں ہیں۔حکومت کی جانب سے جاری سرکیولرمیں کہاگیاہے کہ معاملے کا جائزہ لیا گیا ہے اور سختی سے تعمیل کیلئے تمام متعلقہ افراد کی نوٹس میں مندرجہ ذیل ہدایات لائی گئی ہیں۔اول یہ کہ تمام ملازمین اپنی حاضری کی آمد اور روانگی پر الیکٹرانک طور پر 27 ستمبر2021 سے’ چہرے کی بائیو میٹرک شناخت کے نظام‘ کے ذریعے سول سیکرٹریٹ ، سرینگر اور سول سیکرٹریٹ ، جموں میں اپنی حاضری کو نشان زد کریں گے۔دوئم یہ کہ وہ ملازمین جو بائیو میٹرک سسٹم میں آج تک رجسٹرڈ نہیں ہیں، اُنہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 27 ستمبر 2021 تک یا اس سے پہلے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے اپنا اندراج کریں ، جس کیلئے محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی فوری انتظامات کرے۔سرکیولر میں تیسرا یہ نکتہ بیان کیاگیاہے کہسیول سکریٹریٹ ، سرینگراورسیول سیکرٹریٹ جموں کے تمام’ ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران‘ماہ اکتوبر اور اس کے بعد اپنے ماتحت محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ ’بائیو میٹرک حاضری کی رپورٹ‘ حاصل کرنے کے بعدہی نکالیں گے۔سرکاری سرکیولرمیں چوتھی یہ اہم ہدایت دی گئی ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ سیول سیکریٹریٹ سرینگر اور سیول سیکریٹریٹ ، جموں میں2 اضافی’ چہرے کی شناخت کیبائیومیٹرک نظام کو مختلف مقامات پر نصب کرے گا تاکہ کووڈ19 مناسب رویے کو نافذ کیا جا سکے۔










