’’ حق اطلاعات اور شہری مرکوز حکمرانی‘‘ پر ورکشاپ کا اِنعقاد کیا
سری نگر//چیف اِنفارمیشن کمشنر (سی آئی سی) ہیرا لال سماریا نے آج کلیدی خطاب کیا جس میں اُنہوں نے جموں و کشمیر کے جموںوکشمیر یوٹی میں آر ٹی آئی درخواستوں سے نمٹنے کے دوران سینٹرل اِنفارمیشن کمیشن اور سرکاری اداروں کو درپیش چیلنجوں کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے ان چیلنجوں پر قابو پانے کے ممکنہ طریقوں کی وضاحت کی اور ایکٹ کے مؤ ثر عمل آوری کو یقینی بنانے میں سینٹرل پبلک اِنفارمیشن آفیسرز (سی پی آئی اوز) اور فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹیز (ایف اے ایز) کے اہم کردار پر زور دیا۔چیف اِنفارمیشن کمشنر نے بالخصوص پبلک اتھارٹیز کی طرف سے ازخود معلومات کی فراہمی اور شفافیت کے باقاعدہ آڈِٹ کے اِنعقاد کی اہمیت پر زور دیا تاکہ آر ٹی آئی نظام کی مؤثریت کا جائزہ لیا جا سکے۔اس ورکشاپ میں تقریباً 250 اَفسران نے شرکت کی جن میں ایف اے ایز، سی پی آئی اوز اور جموں و کشمیر اِنتظامیہ کے مختلف پبلک اتھارٹیوں کے دیگر افسران شامل تھے۔ ہیرا لال سماریا نے شرکأ کے ساتھ ایک اِستفساری سیشن بھی منعقد کیا جس میں اُنہوں نے ان کے سوالات اور خدشات کو بغور سنا اور جواب دیا۔ ڈائریکٹر اِنسٹی چیوٹ آف مینجمنٹ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ( کے کے آئی ایم پی اے آر ڈی)ریحانہ بتول بھی ورکشاپ میں موجود تھیں اور اُنہوں نے ادارے کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ اِس ورکشاپ کی نظام کے فرائض ڈاکٹر جہاں آرا جبین نے اَنجام دی جنہوں نے جموں و کشمیر میں آر ٹی آئی ایکٹ کی عمل آوری پر تفصیل سے بات کی۔جے کے امپارڈ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے سرکاری افسران کی صلاحیت سازی کے لئے تربیتی کورسوں کے اِنعقاد میں پیش پیش رہا ہے۔ ڈاکٹر بلال احمد بٹ نے سی آئی سی کی سرگرمیوں کی نگرانی کی۔سر ی نگر میں ورکشاپ کے اِنعقاد کو تمام شرکأ نے بے حد سراہا۔ رجسٹرار سی آئی سی نے ڈائریکٹر جے کے امپارڈ اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس پروگرام کے انعقاد میں تعاون اور سہولیت فراہم کی۔










