آپریشن سندور میں قربانیاں، جدید ٹیکنالوجی سے سرحدی نگرانی مزید مضبوط
سرینگر//وی او آئی//بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے کہا ہے کہ جموں خطے میں دہشت گردوں کی کراس بارڈر دراندازی کو صفر پر رکھنے کے لیے فورس پوری طرح چوکس ہے۔ ا?ئی جی بی ایس ایف جموں فرنٹیئر ششانک ا?نند نے اتوار کو سالانہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ سرحدی ڈھانچے کو ایک ماہ کے اندر بحال اور مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔ ا?ئی جی نے کہا کہ بی ایس ایف ہر موسم اور ہر وقت — بارش، دھند، سردی یا گرمی — میں چوکس رہتی ہے اور سرحدی چوکیوں کو کبھی نہیں چھوڑتی۔ انہوں نے بتایا کہ ا?پریشن سندور میں دو جوان شہید ہوئے جبکہ ایک جوان پرگوال میں اگلے مورچے پر تعیناتی کے دوران ڈوب گیا، لیکن اس نے چوکی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کے پاس اپنی قابلِ اعتماد معلوماتی ذرائع ہیں اور یہ فورس دیگر ایجنسیوں جیسے فوج، انٹیلی جنس بیورو، اسپیشل بیورو اور این ا?ئی اے کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے تاکہ بروقت ان پٹ حاصل ہو سکے۔ سیلاب کے دوران انسدادِ دراندازی گرڈ کو شدید نقصان پہنچا تھا، لیکن بی ایس ایف نے اسے چیلنج سمجھ کر بہتر بنایا۔ ا?نند نے کہاکہ ا?ج ہم ایک ایسے نظام میں بیٹھے ہیں جو پہلے سے دو یا تین گنا بہتر ہے۔ نقصان کو ہم نے موقع سمجھا اور اپنی صلاحیت کو مزید بڑھایا۔” انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے دوران تمام ممکنہ دراندازی راستوں کو اضافی نفری اور جدید نگرانی کے ذریعے بند کر دیا گیا۔ ا?ئی جی نے نارکو-ٹیرر نیٹ ورک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کے خلاف سخت کارروائی کے لیے 360 ڈگری حکمتِ عملی اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ملک کو بیچ دیتے ہیں اور یہی صورتحال جموں و کشمیر، پنجاب اور راجستھان میں بھی ہے، جس کا فائدہ دشمن قوتیں اسمگلنگ کے لیے اٹھاتی ہیں۔ سردیوں اور دھند کے دوران سرحدی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کے جوان جدید ہتھیاروں اور ا?لات سے لیس ہیں۔ ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے جو دھند میں بھی سرگرمیوں کا پتہ لگا سکتی ہے۔ اس لیے ہم ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔” یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بی ایس ایف نے نہ صرف سیلابی نقصان پر قابو پایا بلکہ سرحدی نگرانی کو مزید سخت اور مو?ثر بنا دیا ہے۔










