بحالی کا منصوبہ تیار، 66.43 کروڑ روپے کی لاگت سے پی پی پی ماڈل کے تحت از سر نو تعمیر کا فیصلہ
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر حکومت نے کہا ہے کہ 9 میگاواٹ صلاحیت کا سیوا-III ہائیڈل پاور پروجیکٹ شدید سیلابی نقصان کے باعث غیر فعال ہو چکا ہے، جس کی بحالی کے لیے 66.43 کروڑ روپے کے منصوبے پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق محکمہ بجلی ترقیات نے بتایا کہ یہ رن آف دی ریور پروجیکٹ، جس میں تین یونٹس (ہر ایک 3 میگاواٹ) شامل ہیں، 1993 میں شروع کیا گیا تھا اور 25 جون 2002 کو کمیشن کیا گیا۔ تاہم 2023-24 کے دوران شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔حکام کے مطابق سیلاب سے معائنہ سڑک اور واٹر کنڈکٹر کے ایک بڑے حصے (RD 2360 سے 2515 میٹر تک) کو نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں پانی کی ترسیل کا نظام غیر محفوظ ہو گیا اور پاور ہاؤس کو مکمل طور پر بند کرنا پڑا۔حکومت نے بتایا کہ جموں کشمیر سٹیٹ پائور ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے پروجیکٹ کی مرمت اور بحالی کے لیے تفصیلی منصوبہ رپورٹ تیار کرنے کا کام انڈئن انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی روکری کو سونپا تھا، جس نے 2022 میں اپنی رپورٹ پیش کی جس میں لاگت کا تخمینہ 66.43 کروڑ روپے لگایا گیا۔حکام نے واضح کیا کہ پروجیکٹ کی موجودہ بندش کسی انتظامی تاخیر کی وجہ سے نہیں بلکہ مکمل طور پر سیلابی تباہی کا نتیجہ ہے۔ اب اس کی بحالی کے لیے پی پی پی ماڈل اپنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور عملدرآمد کو مؤثر بنایا جا سکے۔ سینٹر فار انویشن اینڈ ٹرانسفارمیشن ین گورننس نے اپریل 2025 میں ہونے والی ایک میٹنگ میں اس پروجیکٹ کو پی پی پی ماڈل کے تحت دوبارہ ترقی دینے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد ستمبر 2025 میں ڈی پی آر کی نظرثانی اور اپڈیٹ کا کام دوبارہ انڈئن انسٹی چیوٹ آف ٹیکنالوجی روکری کو سونپا گیا۔ اس کی حتمی رپورٹ اپریل 2026 کے آخر تک متوقع ہے۔مزید برآں، بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس منصوبے کے لیے ٹرانزیکشن ایڈوائزر کی تقرری کے لیے محدود ٹینڈر عمل شروع کرنے کی منظوری دی ہے، جو ٹینڈر دستاویزات کی تیاری اور پی پی پی فریم ورک کے تحت موزوں عملدرآمد ماڈل کی سفارش کرے گا۔حکام کے مطابق ڈویلپر کے انتخاب کے بعد اس پروجیکٹ کی از سر نو تعمیر کا کام شروع کیا جائے گا، جس سے سیوا-III پاور پلانٹ کی بجلی پیداوار بحال ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔










