سیر ترال میںمبینہ فوجی زیادتیوں کے خلاف لوگوں کا شبانہ احتجاج

سیر ترال میں مبینہ فوجی زیادتیوں کے خلاف لوگوں کا شبانہ احتجاج

سری نگر//سیر جاگیر ترال میں فوج کی جانب سے مبینہ طورایک چوپان کنبے کو زود کوب اور ہراساں کرنے کے معاملے کے خلاف کنبے اور دیگر لوگوں نے شبانہ احتجاج کیا ہے ۔واقعے پرپی ڈی پی صدر و سابق ویزر اعلی محبوبہ مفتی اور اپنی پارٹی ضلع صدرپلوامہ نے شدید الفاظ میں مزمت کی ہے ۔ادھر فوج نے واقعے کے حوالے سے ایک جاری کیا ہے جس میں انہوں نے لوگوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فون نے کسی کو نہیں مارا نہ ہی کے گھر میں داخل ہوئی ہے۔جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال سے7کلو میٹر دور سیر جاگیر نا می گائوں میں رہائش پزیزر ایک چوپان کنبے کو ینگونی فوجی کیمپ کے ایک افسر کے ہاتھوں مرد و زن کو مارپیٹ کرنے کے خلاف کنبے اور دیگر لوگوں نے پیر اور منگل کی رات دیر گئے احتجاج کیا ۔ مقامی لوگوں نے ’’ الزام لگایا کہ فوج بلاجواز علی محمد چوپان ساکن سیر کے گھرمیںداخل ہوئے اور بلاجواز افراد خانہ کی مارپیٹ کی جسکے نتیجے میں علی محمد کی بیٹی عشرت زخمی ہو گئی جس کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال ترال میں دوران شب ہی منتقل کیا گیا ہے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے عشرت نے بتایا کہ ’’گزشتہ رات نماز عشاء کے بعد اچانک فوج ہمارے گھر کے اندر داخل ہوئی اور ہماری ہڑی پسلی ایک کر دی اور مجھے زخمی کیا۔انہوں نے کہا ہم گھر میں تھے اور انکے مویشی(بھیڑ بکریاں) جو ان کا ذریعہ معاش ہے کے ساتھ کچھ مدر نذدیکی نالے میں تھے جہاں انہیں فون نے مارپیٹ کیا اور انہیں گھر پہنچنے کے لئے کہا ہے اور ایک پارٹی کے پیچھے پیچھے تھی جس دوران انہوں نے مزکورہ دو شیزہ کولات مار دی جس کو بعد میں ترال ہسپتال منتقل کیا گیاہے جہاں اسے رات کے ایک بجے رخصت کیا ہے ۔ احتجاج میں شامل کنبے کے لوگوںنے بتایا وہ زبردست تنگ آئے ہیں۔انہوں ینگونی کیمپ میں تعینات فوجی افسر پر طرح طرح کے الزامات لگائیے ہیں۔انہوںنے کہا ان کے ایک بیٹے کو بھی جیل میں بند رکھا گیا ہے ۔اس احتجاج کا ایک ویڈیو دوران شب ہی وائرل ہوا تھا جس کے بعد پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیر اعلی جموں و کشمیر محبوبہ مفتی نے واقعے پرمذمت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں قائم فوجی کیمپ نے اسے قبل بھی عام شہریوں کی مارپیٹ کی ہے۔ اس دوران اپنی پارٹی کے ضلع صدر غلام محمد میر نے بھی واقعے کی شدید الفاط میں مزمت کی ہے ۔فوج کا بیان: تاہم فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں عام لوگوں کی طرف سے فوج پر لگائے گیے الزامات کو، بے بنیاد قرار دیا گیا ہے فوج کے مطابق علاقے میں ایک فوجی پارٹی معمول کی گشت پر تھی جس دوران مقامی نالے پر بیٹھے دو نوجوانوں کو پوچھ تاچھ کے لئے بلانے پر مقامی شہری علی محمد چوپان کے افراد خانہ گھروں سے باہر آئے اور شور مچانے لگے جس دوران مزکورہ شہری کی بیٹی بیہوش ہو گئی جس کے بعد انہوں نے چیخ پکار کی جسکی وجہ سے مقامی لوگ گھر سے باہر آئے اور احتجاج کر کے فوج کے خلاف احتجاج کیا۔فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے ’’کہ علی محمد چوپان شبیر احمد چوپان کے والد ہیں ، جو اس وقت ملی ٹنٹوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کی پاداش میں پی ایس اے کے تحت جیل میں ہیں۔بیان میں بتایا گیا ہے اس خاندان کا تعلق مقتول جیش جنگجوئوں عبدالحمید چوپان لور سے بھی ہے جو 21 اگست 2021 کو ناگابران میں ایک آپریشن کے دوران مارا گیا تھا۔