سیب ،سیاحتی صنعتوں کو کاری ضرب لگنے کے بعد وادی معاشی اور اقتصادی بحران میں مبتلاء

سیب ،سیاحتی صنعتوں کو کاری ضرب لگنے کے بعد وادی معاشی اور اقتصادی بحران میں مبتلاء

بے روزگاری عروج پر ، 50لاکھ کے قریب لوگوں کو ضرورتیں پورا کرنے میں مشکلوں کا سامنا

سرینگر//اے پی آئی// جموں وکشمیر میں بالعموم اور وادی کشمیر میں بالخصوص معاشی اور اقتصادی بحران نے سنگین رُخ اختیار کیا ہے ۔ بے روزگاری سر چڑ کر بول رہی ہے جبکہ تعمیراتی سرگرمیاں پوری طرح سے ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں ۔تاجروں کا کہنا ہے کہ انہوںنے اس طرح کی معاشی اور اقتصادی تنگی کبھی نہیں دیکھی جو پچھلے 8ماہ سے وادی کشمیر میں پائی جاتی ہے اور حالیہ بارش ، سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کرلی ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق وادی کشمیر اس وقت معاشی اوراقتصادی بحران میں مبتلاء ہوگئی ہے ۔ حالیہ موسلادھار بارشوں اور سیلابی صورتحال نے جہاں سیب صنعت کو کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار کرریا ، وہیں دھان ،مکی اور دوسری فصلوںکو بھی تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ وادی کشمیرمیں پرائیویٹ سیکٹر مکمل طور پر ٹھپ ہوچکا ہے اور اس سیکٹر میں نئی روح پھونکنے ، روزگار کے وسائل بروئے کار لانے کیلئے سرکاری اور نجی سطح پر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔جن لوگوں کے پاس سرمایہ ہے وہ چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو قائم کرنے کیلئے میدان میں آنے کیلئے تیار نہیں ہے اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے سرکاری سطح پر جو اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اس کی طرف کوئی توجہ مبذول نہیں کی جاتی ہے ۔ سرکار کا دعویٰ ہے کہ انہیں خزانہ خالی ملا ہے اور پچھلے 10برسوں کے دوران غیر ترقیاتی منصوبوں پر پانی کی طرح پیسے خرچ کئے گئے ہیں تاہم ان کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جموں وکشمیر سرکار نے اقتدار ہاتھ میں لینے کے بعد تعلیم یافتہ بے روزگاروں کو یقین دلایا تھا کہ سرکاری اداروں میں خالی پڑی اسامیوںکو پُر کرنے کیلئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں گے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب سرکار ہیلے بہانے تلاش کررہی ہیں ۔ سرکاری اداروںمیں خالی پڑی اسامیوںکو پُر کرنے اور تعلیم یافتہ بے روزگاروںکو روزگار فراہم کرنے کی خاطر سنجیدہ نوعیت کی کوششیں عمل میںنہیں لائی جارہی ہے ۔ تعلیم یافتہ بے روزگاروںکیلئے مہنگائی بھتہ فراہم کرنے کیلئے جو قوائد و ضوابط مرتب کئے گئے ہیں وہ انتہائی حیران کن ہے ۔ سیب اور سیاحتی صنعتوں کو کاری ضرب ملنے کے باعث وادی کشمیر معاشی اور اقتصادی بحران کی شکار اس قدر ہوئی ہے کہ 40سے 50لاکھ کے قریب لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔سرکار اور نجی سطح پر تعمیراتی سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں ،تاجروں کا ماننا ہے کہ وادی کشمیر اس وقت جس صورتحال کا معاشی اور اقتصادی طورپر سامنا کررہی ہے اُس کی ماضی میں بھی مثال نہیں مل رہی ہے ۔