کانگریس اورپی ڈی پی کاسخت ردعمل، واقعہ کی مکمل تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ
سرینگر//یواین ایس / جموں و کشمیر میں مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں نے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ فائرنگ کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ بدھ کی رات جموں کے مضافاتی علاقے گریٹر کیلاش میں ایک شادی کی تقریب سے واپسی کے دوران ایک مسلح شخص نے مبینہ طور پر فاروق عبداللہ پر پیچھے سے فائرنگ کی۔ تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس کی شناخت 63 سالہ کمل سنگھ جموال کے طور پر ہوئی ہے جو جموں کے علاقے پرانی منڈی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے اس واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پرتشدد واقعات خطے میں موجود سیکورٹی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قانون و امن برقرار رکھنے کے ذمہ دار اداروں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے کیونکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کرنا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔آل انڈیا کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کے لیڈر غکام احمد میرنے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات پر اس طرح کے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں اور سیکورٹی نظام کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔دریں اثنا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی واقعہ پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ فاروق عبداللہ محفوظ ہیں اور خیریت سے ہیں، جس پر اطمینان ہے، تاہم اس واقعہ کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ سیکورٹی میں ممکنہ خامیوں کو سامنے لایا جا سکے۔نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ میاں الطاف نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطمینان کی بات ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے ہمراہ موجود دیگر رہنما محفوظ رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کر کے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ادھر مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے واقعہ کی مذمت کی۔ نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے کہا کہ انہوں نے واقعہ کے بعد ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور دیگر رہنماؤں سے رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون اور پارٹی کے جنرل سیکریٹری عمران انصاری نے بھی فائرنگ کے واقعہ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔رکن پارلیمنٹ اغا روح اللہ نے بھی اس واقعہ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق قصورواروں کو سزا دی جانی چاہیے۔دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ریاستی صدر رویندر رینہ نے بھی اس فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہیں اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔










