Doodh Pathri

سیاحتی مقام یوسمرگ اور دودھ پتھری سیاحوں کی منتظر

دوبارہ کھلنے کے باوجود سیاحوں کی آمد کم، روزگار متاثر ہونے کا خدشہ

سرینگر//یو این ایس / وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں واقع خوبصورت سیاحتی مقام یوسمرگ دوبارہ کھولے جانے کے باوجود سیاحوں کی خاطر خواہ ا?مد کا منتظر ہے، جبکہ مقامی باشندوں نے حکومت سے اس مقام پر سیاحت کے فروغ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق اگرچہ یوسمرگ کو حال ہی میں کئی ماہ کی بندش کے بعد عام سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، تاہم یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد توقع سے کہیں کم ہے جس کے باعث مقامی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔یو این ایس کے مطابق مجہ پتھری کے ایک رہائشی فیاض احمد نے بتایا کہ علاقے کے کئی خاندان اپنی روزی روٹی کے لیے سیاحت پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھوڑا سواری کی خدمات، مقامی ڈھابے، چھوٹی دکانیں اور ٹیکسی سروسز چلانے والے بیشتر افراد کی آمدنی کا دارومدار سیاحوں پر ہے، مگر سیاحوں کی کمی کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلگام،گلمرگ اور سونہ مرگ جیسے دیگر سیاحتی مقامات کی تشہیر پر زیادہ توجہ دی ہے، جس کے مقابلے میں یوسمرگ کو وہ توجہ حاصل نہیں ہو سکی جس کی اسے ضرورت ہے۔ایک اور مقامی شہری شبیر احمد نے بتایا کہ لوگوں کو امید تھی کہ منزل دوبارہ کھلنے کے بعد سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں کا رخ کرے گی اور مقامی افراد کی معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوں گی، لیکن اب تک صورتحال مختلف نظر آرہی ہے اور سیاحوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یوسمرگ کی سیاحتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے موثر تشہیری مہم چلائی جائے اور یہاں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے، تاکہ یہ مقام بھی کشمیر کے بڑے سیاحتی مراکز کی فہرست میں شامل ہو سکے۔انہوں نے ٹیکسی ڈرائیوروں اور ٹور اینڈ ٹریول ایجنسیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے سفری پروگراموں میں یوسمرگ کو شامل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح اس خوبصورت وادی سے واقف ہو سکیں اور یہاں کا رخ کریں، جس سے مقامی ا?بادی کو پائیدار روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔