سرینگر//وزیر تعلیم ، سماجی بہبود ، صحت اور میڈیکل ایجوکیشن محترمہ سکینہ ایتو نے سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کی صدارت کی تا کہ جموں و کشمیر بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیس فکسیشن اور ریگولیشن سے متعلق مسائل کا جائیزہ لیا جائے ۔ اجلاس میں سیکرٹری سکول ایجوکیشن ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن کشمیر ، سیکرٹری جے کے بی او ایس ای ، ڈائریکٹر سکول ایجوکیشن جموں ، ڈائریکٹر فائنانس سکول ایجوکیشن ، ایڈمنسٹریٹو آفیسر فیس فکسیشن اینڈ ریگولیشن کمیٹی ( ایف ایف آر سی ) اور دیگر متعلقہ افسران نے ذاتی طور پر یا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی ۔ اجلاس کے دوران وزیر نے جموں و کشمیر بھر میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی فیس فکسیشن ، ریگولیشن اور اپریشنل شفافیت سے متعلق متعدد مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا ۔ وزیر نے زور دیا کہ تعلیم ایک سماجی ذمہ داری ہے اور حکومت کے اس عزم کو دوہریا کہ کوئی طالب علم غیر معقول فیس ڈھانچے کی وجہ سے سیکھنے کے مواقع سے محروم نہ ہو ۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ موجودہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور نگرانی کے طریقہ کار کو مضبوط کیا جائے تا کہ من مانی فیس میں اضافے اور دیگر خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے ۔ دیگر مسائل کا جائیزہ لیتے ہوئے وزیر نے سی ای اوز کو ہدایت دی کہ نجی اسکولوں کی طرف سے مختلف ایجنسیوں کے ذریعے اسکول کی درسی کتابوں کی غیر منظم فروخت کو روکا جائے جو کہ مہنگے نرخوں پر کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے سی ای اوز کو ہدایت دی کہ اسکولوں اور کتابوں کی کی دکانوں پر باقاعدہ چیکنگ کی جائے اور ان اسکولوں اور کتابوں کی دکانوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جو درسی کتابیں مہنگے نرخوں پر فروخت کرنے میں ملوث ہیں ۔ انہوں نے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کو ہدایات دیں کہ وہ اسکولوں کی طرف سے پیروی کئے جانے والے نصاب /کتب کے حوالے سے ایک تفصیلی حکم جاری کریں اور ہر سی ای او کو اس حکم کو حرف و حرف نافذ کرنے کا پابند بنائیں ۔ انہوں نے افسران کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ حکومت کے سرور پر ایک مکمل متحرک ویب سائٹ تیار کریں تا کہ آن لائن درخواستیں ، فیس ڈیٹا اور منظور شدہ فیس ساخت تک شفاف عوامی رسائی ممکن ہو سکے ۔










