سکینہ اِیتو کا لل دید ہسپتال ، بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال ،پیڈیاٹرک ہسپتال اور ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر کا دورہ

سکینہ اِیتو کا لل دید ہسپتال ، بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال ،پیڈیاٹرک ہسپتال اور ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر کا دورہ

طبی آلات او ردیگر ضروری سہولیات کا جائزہ لیا،مریضوں او رتیمارداروں سے بھی بات چیت کی

سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے شدید بارش کے بعد کی صورتِ حال کے پیش نظرآج سری نگر شہر کے بڑے طبی اِداروں کا دورہ کیا تاکہ عوام کو دستیاب طبی آلات اور دیگر ضروری سہولیات کا جائزہ لیا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے دورے کے دوران لل دید ہسپتال سری نگر کا تفصیلی معائینہ کیا اور ایمرجنسی سروسز، او پی ڈی، زچہ و بچگی نگہداشت یونٹوں،، تشخیصی لیبارٹریوں اور فارمیسی وِنگ جیسے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا۔ اُنہوں نے طبی آلات کی فعالیت، ضروری اَدویات کی دستیابی، صفائی ستھرائی اور عملے کی حاضری پر خصوصی توجہ دی۔اُنہوں نے معائینے کے دوران مریضوں اور اُن کے تیمارداروں سے روبرو بات چیت کی تاکہ ان کے تجربات جان سکیں اور لوگوںکے لئے فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق زمینی حقائق کا اندازہ ہو سکے۔ اُنہوں نے اُنہیں یقین دِلایا کہ صحت نگہداشت سے متعلق کسی بھی قسم کی کمی کو فوری طور پر دور کیا جائے گا۔وزیر صحت نے اِس موقعہ پر ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے بات چیت کرتے ہوئے خراب موسم کے پیش نظر طبی عملے کی مسلسل مستعدی اور بروقت ردِّعمل کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہسپتال اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ ڈاکٹروں اور عملے کی چوبیس گھنٹے دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور ڈیوٹی روسٹر کو مناسب طریقے سے برقرار رکھا جائے۔اُنہوں نے کہا،’’صحت موجودہ حکومت کے لئے ایک ترجیحی شعبہ ہے اور ہم ایک ایسا نظام صحت قائم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں جو مؤثر، ہمدرد او ر لوگوں کے لئے جوابدہ ہو۔‘‘ بعد میں وزیر موصوفہ نے بون اینڈ جوائنٹ ہسپتال برزلہ کا دورہ کیا اور وہاں دستیاب طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے وہاں او پی ڈِی، آئی پی ڈِی، ایمرجنسی وارڈوں، لیبارٹریوں اور دیگر شعبوں کا تفصیلی معائینہ کیا۔اُنہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے سے بات چیت کے دوران خراب موسم کے پیش نظر مریضوں کے بروقت اور مؤثر علاج کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے ہسپتال اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ مریضوں کے تیمارداروں کے لئے مناسب انتظامات کئے جائیں تاکہ لگاتار بارش کی وجہ سے درپیش مشکلات کو کم کیا جا سکے۔بعد ازاں، وزیرسکینہ اِیتو نے 500 بستروں پر مشتمل پیڈیاٹرک ہسپتال بمنہ کا دورہ کیا اور وہاں دستیاب طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے دورے کے دوران ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف اور تیمارداروں سے گفتگو کی تاکہ بچوں کے علاج میں درپیش چیلنجوں کو سمجھا جا سکے۔ اُنہوں نے ایمرجنسی، نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت (این آئی سی یو) اور تشخیصی سہولیات سمیت مختلف وارڈوں کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے ہسپتال میں صفائی ستھرائی، حفظانِ صحت اور مریض دوست سہولیات کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیرصحت نے تیمارداروں کی جانب سے اُٹھائے گئے کچھ مسائل اور شکایات بالخصوص رہائش، اِنتظار گاہوں اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے کا نوٹس لیا۔ اُنہوں نے ہسپتال حکام پر زور دیا کہ وہ لوگوںکی مشکلات کو کم کرنے کے لئے ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔اسی دوران وزیر موصوفہ نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال اور جی ایم سی سری نگر کا بھی دورہ کیا اور طبی سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اِس موقعہ پر اُنہوں نے او پی ڈِی، آئی پی ڈِی، ایمرجنسی وارڈوں، آپریشن تھیٹروں اور دیگر شعبوں کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ خراب موسم کے پیش نظر سہولیات اور دیگر طبی آلات کو بہتر بنایا جائے۔اُنہوں نے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں پرنسپل جی ایم سی سری نگر، ایڈمنسٹریٹر ایسو سی ایٹیڈ ہاسپٹل، میڈیکل سپراِنٹنڈنٹ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال، مختلف شعبوں کے سربراہان، تمام متعلقہ ہسپتالوں کے میڈیکل سپراِنٹنڈنٹوں اور دیگر متعلقہ طبی ماہرین کے ساتھ ایک مختصر میٹنگ بھی منعقد کی۔ دوران میٹنگ وزیرموصوفہ نے مریضوں اور ڈاکٹروں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا کیوں کہ یہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت جس کی قیادت عمر عبداللہ کر رہے ہیں، جموں و کشمیر کے سرکاری طبی اداروں میں خدمات کی فراہمی بالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں بہتر بنانے کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ان دوروں کا مقصد اداروں میں غفلت کے رجحان کا خاتمہ اور صحت کی خدمات میں اعلیٰ معیار کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ وزیر برائے صحت سکینہ اِیتو نے ان طبی اداروں کے دورے کے دوران اسسٹنٹ ڈرگ کنٹرولر کو ہدایت دی کہ دستیاب ادویات اور دیگر ضروری اشیأ کے نمونے لے کر ان کا معائینہ کیا جائے۔