کہا، جموںوکشمیرمیں صحت خدمات کو مضبوط بنانے کیلئے فارماسسٹ اور پیرا میڈکس نہایت اہم ہے
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے اِس بات پر زور دیا کہ فارماسسٹ اور پیرا میڈیکل عملہ جموں و کشمیر میں صحت خدمات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج مادرِمہربان کیمپس آف ہیلتھ سائنسز (ایم ایم سی ایچ ایس)چک بھلوال میں منعقدہ نیشنل فارمیسی ایجوکیشن ڈے کی تقریب سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اِس موقعہ پر وزیرموصوفہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ فارماسسٹ اور پیرا میڈکس صحت کے نظام کا ایک ناگزیر ستون ہیں جو مریضوں کو محفوظ، مؤثر اور معقول علاج کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ طبی سائنس اور فارماسیوٹیکل ٹیکنالوجی میں تیز رفتار ترقی کے ساتھ پیرا میڈکس کا کردار صرف اَدویات فراہم کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس میں مریضوں کی رہنمائی، کلینیکل تحقیق، ادویات کی حفاظت کی نگرانی اور عوامی صحت کے فروغ جیسے اہم شعبے بھی شامل ہو چکے ہیں۔اُنہوں نے نے جموں و کشمیر میں تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہنر مند پیرا میڈیکل پیشہ ور افراد صحت کی عالمی رسائی کو یقینی بنانے اوربالخصوص دیہی اور پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کی دستیابی کو بہتر بنانے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔سکینہ اِیتو نے کہا، ’’پیرا میڈکس اور فارماسسٹ ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان ایک پُل کا کردار اَدا کرتے ہیں۔ اُن کی مہارت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ادویات محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال ہوںجس سے مریضوں کی صحت کا تحفظ ہوتا ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزیدکہا کہ حکومت حکومت جموں و کشمیر میں صحت خدمات کی فراہمی میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے پیرامیڈیکل سیکٹر میں اَسامیوں کو باقاعدگی سے پُرکر رہی ہے۔اُنہوں نے طلبأسے کہاکہ پیشہ ورانہ میدان میں قدم رکھنے کے بعد ہمدردی اور مریضوں کی خدمت کے جذبے کو ہمیشہ برقرار رکھیں۔ اُنہوں نے کہا کہ احساسِ ذمہ داری اور لگن کامیاب طبی پیشہ ور اَفراد کی بنیادی خصوصیات ہیں۔وزیر صحت و طبی تعلیم نے جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی منشیات کے اِستعمال کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے تمام شراکت داروں پر زوردیا کہ وہ اس سماجی برائی کے خاتمے کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔اُنہوں نے اَدویات کے صحیح اِستعمال اور خود سے دوا لینے کے نقصانات کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا ،’’فارماسسٹ اور پیرا میڈکس پر یہ اہم ذِمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مریضوں کو اَدویات کے درست استعمال کے بارے میں رہنمائی فراہم کریں اور اَدویات کے غلط اِستعمال کو روکیں۔‘‘وزیرموصوفہ نے مادر مہربان ایجوکیشن ٹرسٹ کے اِدارے کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ایسے قابل پیشہ ور افراد تیار کر رہا ہے جو صحت شعبے میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے نئی تعلیمی پالیسی کے تحت طلبأ کو تربیت دینے اور ان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں کالج کی کوششوں کو سراہا۔اُنہوں نے طلبأ کو فارماسیوٹیکل سائنسز میںاِختراع، تحقیق اور اخلاقی اصولوں کو اَپنانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ صحت شعبے کا مستقبل نوجوان فارماسسٹوں کی محنت اور پیشہ ورانہ دیانت داری پر منحصر ہے۔اِس سے قبل کالج کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آر کے رینہ نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں ادارے کے کردار پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ ادارہ فارمیسی تعلیم کو فروغ دینے، ذمہ دارانہ طبی رویوں کو پروان چڑھانے اور جموں و کشمیر میں صحت خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔بعد ازاں وزیرصحت نے پوسٹر سازی اور مضمون نویسی کے مقابلوں کے فاتحین میں اسناد اور انعامات تقسیم کئے۔ اُنہوں نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے فارغ التحصیل طلبأ اور مختلف کھیلوں کے مقابلوں میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبأ کو بھی اعزازات سے نوازا۔اِس موقعہ پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سیّداسداللہ،دوسرے تعلیمی اداروں کے پرنسپل، فارمیسی کونسل کے نمائندگان، اساتذہ اور طلبأ کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔










