سکینہ اِیتو نے کولگام کا دورہ کیا

بنی مولہ میں 2.74 کروڑ روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی سکیم کا سنگ بنیاد رکھا

کولگام// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے ضلع کولگام کا دورہ کیا اوراُنہوں نے ہرپورہ بنی مولہ میں واٹر سپلائی سکیم کا سنگِ بنیاد رکھا جس کا مقصد مقامی آبادی کو پینے کے صاف اور قابل اعتماد پانی کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔یہ منصوبہ یو ٹی کیپکس بجٹ کے تحت 2.74 کروڑ روپے کی تخمینی لاگت سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد بڑی تعداد میں گھروں کو محفوظ اور مناسب مقدار میں پینے کا صاف پانی فراہم ہونے کی توقع ہے جس سے مقامی آبادی کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوگا۔وزیر موصوفہ نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے بعد عوامی اِجتماع سے خطاب کیا اور انہوں نے حکومت کے جامع اور متوازن ترقی کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبے شفافیت، معیاراور بروقت تکمیل کے اصولوں کے تحت عملائے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا، ’’ پینے کے صاف پانی تک رَسائی ایک بنیادی ضرورت ہے اور حکومت کی اوّلین ترجیح بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں میں ہے۔‘‘اِس موقعہ پر وزیرسکینہ اِیتو نے علاقے کو درپیش مختلف ترقیاتی مسائل کا بھی جائزہ لیا جن میں پانی کی فراہمی، صحت سہولیات، تعلیم، سڑک رابطہ اور سماجی بہبود کی سکیمیں شامل ہیں۔ اُنہوں نے لوگوں کو یقین دِلایا کہ ان کے جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور کہا کہ حکومت بنیادی سہولیات اور معیارِ زِندگی کو بہتر بنانے کے لئے مسلسل کام کر رہی ہے۔اُنہوں نے علاقے کے عوامی وفود اور اَفراد سے بات چیت کے دوران بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے لے کر فلاحی بہبود تک مختلف شکایات اور مطالبات پیش کئے۔
وزیرموصوفہ نے مقامی لوگوں کے مسائل بغور سُنا اور موقعہ پر موجود متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی جہاں ممکن ہو فوری اَزالے کے لئے اَقدامات کرنے اور دیگر معاملات میں فالو اَپ کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔عوامی شرکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت اور رائے مؤثر طرزِ حکمرانی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ حکومت بالخصوص دیہی اور دُور دراز علاقوں میں لوگوں کے معیارِ زِندگی کو بہتر بنانے کے لئے بنیادی ڈھانچے، پینے کے پانی کی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔اِس موقعہ پر ضلعی اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، جل شکتی محکمہ کے اہلکار، مقامی نمائندگان اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ موجود تھے۔