سکینہ اِیتو نے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر کے کام کاج کا جائزہ لیا

سکینہ اِیتو نے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر کے کام کاج کا جائزہ لیا

اُبھرتے ہوئے شعبوں میں ہنرپر مبنی اور روزگار پر مبنی کو رسوں کو متعارف کرنے کا عزم

سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے آج سول سیکرٹریٹ سری نگر میں منعقدہ ایک میٹنگ میں کلسٹر یونیورسٹی سری نگر اور اس کے ملحقہ کالجوں کے کام کاج کا تفصیلی جائزہ لیا۔میٹنگ میں وائس چانسلرکلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر محمد مبین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن شانت متو ، ڈائریکٹر کالجز، سپیشل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن، ملحقہ کالجوں کے پرنسپل اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے تعلیمی کارکردگی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، فیکلٹی کی دستیابی، طلبأ کی خدمات، داخلوں اور یونیورسٹی میںجاری منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔سکینہ اِیتو نے اَفسران سے خطاب کرتے ہوئے تعلیمی سرگرمیوں کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا۔ اُنہوں نے یونیورسٹی اِنتظامیہ اور ملحقہ کالجوں کو ہدایت دی کہ وہ آرٹیفیشل اِنٹلی جنس، ہاسپیٹلٹی مینجمنٹ ،ڈیٹا سائنس، سائبر سیکورٹی، ہوٹل مینجمنٹ، سیاحت اور دیگر اُبھرتے ہوئے شعبوں میں ہنر پر مبنی اور جاب پر مبنی کورسوں کو متعارف کریں۔اُنہوں نے اَفسران سے یہ بھی کہا کہ وہ مختلف شراکت داروں کے ساتھ تال میل برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کورسز صنعت سے منسلک ہوں اور متعلقہ شعبے کے ماہرین کی مشاورت سے ڈیزائن کئے جائیں۔
سکینہ اِیتو نے کہا،’’تعلیمی برتری کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی اہم ہیں۔طالب علموںکو صرف ڈِگریاں نہیں بلکہ ایسے ہنر سیکھنے چاہئیں جو انہیں موجودہ مسابقتی ماحول میں کامیاب بنائیں۔‘‘اُنہوںنے موجودہ پیشہ ورانہ اور اِضافی کورسز کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وزیر موصوفہ نے جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کو ایک متحرک، ہنر پر مبنی اور جامع نظام میں تبدیل کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور یونیورسٹی کو ہر ممکن سرکاری تعاون جاری رکھنے کا یقین دِلایا۔