سکینہ اِیتو نے کشمیر یونیورسٹی میں طالب علم دوست ماڈل اَپنانے کی وکالت کی

کشمیر یونیورسٹی کو ’تعلیمی عمدگی کا مینار‘بنانے میں مکمل تعاون کی یقینی دہانی کی

سری نگر//وزیربرائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتونے جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی اِداروں پر زور دیا کہ وہ خود کو طلبأ کی اُمنگوں اور جدید تعلیمی معیارات کے مطابق ہم آہنگ کریں۔ان باتوں کا اِظہار وزیر موصوفہ نے آج یہاں سول سیکرٹریٹ میں کشمیر یونیورسٹی کی تعلیمی و اِنتظامی کام کاج کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ میٹنگ میں وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، رجسٹرار کشمیر یونیورسٹی، یونیورسٹی اور اعلیٰ تعلیم محکمہ کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر تعلیم نے تدریس و تحقیق،بنیادی ڈھانچے کی ترقی، طلبأ کی بہبودِاقدامات اور یونیورسٹی کی دیگر مختلف سرگرمیوں پر تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے زور دیا کہ طلبأ کمیونٹی کوہر پالیسی اور اِصلاحاتی اقدام کے مرکز میں رہنا چاہیے کیوں کہ وہ تعلیمی نظام کے حقیقی شراکت دار ہیں۔سکینہ اِیتو نے مشاہدہ کیا کہ طلبأ کو درپیش بہت سے مسائل کی وجہ تاخیرسے ہونے والے اِنتظامی عمل اور بروقت معلومات کی کمی ہے۔ اُنہوں نے یونیورسٹی اِنتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ایک طالب علم دوست ماڈل اَپنائے جو تعلیمی و اِنتظامی خدمات کے بہتر اور مؤثر نظام کو یقینی بنائے۔اُنہوں نے کہا،’’طلباء کو ہمارے تمام تعلیمی اِداروں میں اوّلین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ اُنہیں یہ محسوس ہونا چاہیے کہ اُن کے مسائل سُنے جا رہے ہیں اور ان کا فوری طور پر اَزالہ کیا جاتا ہے۔‘‘وزیر سکینہ اِیتو نے اعتماد سازی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے یونیورسٹی قیادت سے کہا کہ اِمتحانات، داخلوں، مالیاتی اِنتظام اور تحقیقی پروگراموں کے لئے شفاف نظام کو ادارہ جاتی بنائیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ فیصلہ سازی میں شفافیت اور طریقۂ کار میں وضاحت نہ صرف شکایات میں کمی لائے گی بلکہ تاخیر سے بچائے گی اور یونیورسٹی کی ساکھ کو طلبأ و معاشرے میں مزید مضبوط بنائے گی۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ طلبأ، اساتذہ اور اِنتظامیہ کے درمیان باقاعدہ رابطہ فورمز کا قیام مکالمے اور اعتماد کے لئے ضروری ہے۔ اِس موقعہ پراُنہوں نے واضح رَسائی کے طریقۂ کار کے ساتھ مؤثر طلبأ شکایات اَزالہ سیل کے قیام کی ہدایت دی۔وزیر تعلیم سکینہ اِیتو نے کشمیر یونیورسٹی کی شاندار علمی میراث کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ باوقار ادارہ خطے میں اعلیٰ تعلیم کے معیارات قائم کرنے کی ذِمہ داری نبھاتا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’کشمیر یونیورسٹی کو صرف ایک اعلیٰ تعلیمی مرکز ہی نہیں بلکہ مواقع، اختراعات اور ترقی کا گہوارہ ہونا چاہیے جہاں ہر طالب علم کو اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کا احساس ہو۔‘‘ وزیر موصوفہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ طلبأ اور اساتذہ کے ساتھ مل کر مقررہ وقت میں ان اصلاحات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اُنہوں نے اِس اِدارے کو مضبوط بنانے اور اسے ’تعلیمی عمدگی کا مینار ‘ بنانے کے لئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کی۔