سکینہ اِیتو نے چیئرپرسن جے کے بی او پی اِی اِی کے ساتھ جموںوکشمیر میں پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا

سکینہ اِیتو نے چیئرپرسن جے کے بی او پی اِی اِی کے ساتھ جموںوکشمیر میں پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا

طلبأ کو معیاری، متنوع اور کیریئر پر مبنی مواقع فراہم کئے جائیں۔سکینہ اِیتو کی ہدایت

سری نگر// وزیربرائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے آج جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزام ینیشن (جے کے بی او پی اِی اِی) کی چیئرپرسن پروفیسر مینو مہاجن سے ایک مختصرمیٹنگ منعقد کی جس میں جموں و کشمیر میں پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع کو وسعت دینے اور مضبوط بنانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دورانِ بات چیت وزیر موصوفہ نے چیئرپرسن سے بورڈ کی کارکردگی اور اس سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی معلومات حاصل کیں۔ اُنہوں نے کمپوزٹ ریجنل سینٹر (سی آر سی) سری نگرکے کام کاج کا بھی جائزہ لیا۔وزیر تعلیم نے چیئرپرسن کو ہدایت دی کہ خصوصی بی ایڈ کورس میں مزید نشستوں کی گنجائش کا جائزہ لیا جائے کیوں کہ جموں و کشمیر میں چاہے وہ مرکزی دھارے کے ادارے ہوں یا خصوصی تعلیمی مراکزخصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے تربیت یافتہ اساتذہ کی بہت زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔سکینہ اِیتو نے دیگر معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے جے کے بی او پی اِی اِی کو ہدایت دی کہ طلبأ اور درخواست دہندگان کے لئے ایک معیاری شکایات اَزالہ نظام قائم کیا جائے تاکہ ان کی مشکلات کو بروقت حل کیا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر داخلوں کو یقینی بنانے میںجے کے بی او پی اِی اِی کے رول کی ستائش کی اور یقین دلایا کہ حکومت اس اِدارے کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی تاکہ جموں و کشمیر کے طلبأ کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم حاصل کرنے کے مزید مواقع پیدا کرنے میں حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دِلایا۔اُنہوں نے چیئرپرسن کو ہدایت دی کہ وہ مختلف اقدامات پر کام جاری رکھیں جو پیشہ ورانہ تعلیم کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے اور جموں و کشمیر کے باصلاحیت طلبأ کو معیاری، متنوع اور کیریئر پر مبنی تعلیمی مواقع فراہم کریں گے۔اِس موقعہ پر چیئرپرسن جے کے بی او پی اِی اِی نے وزیر تعلیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کوششوں سے جموں و کشمیر کے طلبأ کے لئے 290 نئی ایم بی بی ایس نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے جو نہ صرف میڈیکل شعبے میں دلچسپی رکھنے والے طلبأ کے لئے ایک بڑا موقع ہے بلکہ یہ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے اس عزم کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کو علمی ترقی کا مرکز بنایا جائے۔