سکینہ اِیتو نے صوبہ کشمیر میں محکمہ سکولی تعلیم کی کارکردگی اور کام کاج کا جائزہ لیا

سکینہ اِیتو نے صوبہ کشمیر میں محکمہ سکولی تعلیم کی کارکردگی اور کام کاج کا جائزہ لیا

سری نگر// وزیر برائے تعلیم، سماجی بہبوداور صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے سول سیکرٹریٹ میں ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی تاکہ صوبہ کشمیر میں محکمہ سکولی تعلیم کی کارکردگی اور کام کاج کا جائزہ لیا جا سکے۔میٹنگ ڈائریکٹر محکمہ سکولی تعلیم نصیر احمد وانی،محکمہ سکولی تعلیم کے جوائنٹ ڈائریکٹروں ، صوبہ کشمیر کے تمام اَضلاع کے چیف ایجوکیشن اَفسران اور ایس اِی ڈی کے دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ وزیر موصوفہ نے سکول ایجوکیشن سیکٹر کے اہم عملی پہلوؤں جیسے سکولوں کی تعلیمی کارکردگی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اَساتذہ کی تعیناتی، سکولوں کی نصابی کتب اور دیگر مواد کی بروقت تقسیم پر تفصیلی جائزہ لیا۔ اِس کے علاوہ پرائیویٹ سکولوں کی جانب سے سکولوں کی نصابی کتب کی مختلف ایجنسیوں کے ذریعے بے ضابطگی سے زائد نرخوں پر فروخت سے متعلق امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں سکینہ اِیتو نے افسران سے خطاب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ خطے کے تمام سکول تعلیمی سیشن کے آغاز سے قبل نصابی کتابیں اور دیگر تعلیمی مواد حاصل کریں۔ اُنہوں نے کہا،’’کتابوں اور وسائل کی بروقت دستیابی تعلیمی کیلنڈر کو برقرار رکھنے اور یہ یقینی بنانے کے لئے نہایت اہم ہے کہ کوئی طالب علم پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ تقسیم کے عمل کو بہتر بنایا جائے اورصوبائی اور ضلعی تعلیمی دفاتر کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے ذریعے اسے مؤثر بنایا جائے اور ہر سطح پر شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔وزیر موصوفہ نے سکول ایجوکیشن سیکٹر کے دیگر مسائل کے جائزے کے دوران چیف ایجوکیشن اَفسران کو سخت ہدایت دی کہ پرائیویٹ سکولوں کی طرف سے نصابی کتابوں کی غیر منظم فروخت کی نگرانی کریں۔ اُنہوں نے کہا،’’ سکولوں اور کتابوں کی دکانوں پر باقاعدہ چیک کریں اور زیادہ قیمتوں پر نصابی کتابوں کی فروخت میں ملوث سکولوں اور کتابوں کی دکانوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔‘‘اُنہوں نے ڈائریکٹر سکولی تعلیم کو ہدایت دی کہ وہ نصاب،کتابوں کے حوالے سے تفصیلی حکم نامہ جاری کریں اور ہرچیف ایجوکیشن اَفسران اس حکم کو من و عن عملانے کے لئے کہیں۔ اُنہوں نے چیف ایجوکیشن اَفسران سے کہا کہ وہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔وزیرموصوفہ نے جی پی فنڈز کی بروقت کارروائی پر بھی زور دیااور چیف ایجوکیشن اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ہر سی اِی او کے پاس جمع کئے گئے اور زیر اِلتوأ کیسوں کی تفصیلی رِپورٹ پیش کریں۔