سکینہ اِیتو نے صوبہ جموں میں محکمہ سکولی تعلیم کی کارکردگی اور کام کاج کا جائزہ لیا

جموں// وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو نے سول سیکرٹریٹ میں ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں صوبہ جموں کے تحت محکمہ سکولی تعلیم کی کارکردگی اور کام کاج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں سیکرٹری محکمہ سکولی تعلیم رام نواس شرما، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگراہ شکھشا بھوانی رکوال، ڈائریکٹر سکولی تعلیم جموں نسیم جاوید چودھری، جموں کے تمام اَضلاع کے چیف ایجوکیشن اَفسران اور محکمہ سکولی تعلیم کے دیگر متعلقین نے شرکت کی۔دورانِ میٹنگ وزیر تعلیم سکینہ اِیتو نے مرکزی معاونت والی سکیموں ، بنیادی ڈھانچے کی ترقیاتی منصوبوں ، تعلیمی اِصلاحات اور ڈیجیٹل لرننگ اقدمات کا جائزہ لیا جن کا مقصد سرکاری سکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اُنہوں نے عوامی فنڈز کے مؤثر اور شفاف استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی شعبے کے لئے مختص ہر روپیہ کو اِنصاف کے ساتھ اور قابل پیمائش نتائج کے ساتھ خرچ کیا جانا چاہیے۔وزیر موصوفہ نے اَفسران کو ہدایت دی کہ جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں بالخصوص ان منصوبوں کی جو سکول اِنفراسٹرکچر، آئی سی ٹی لیبز، اَساتذہ کی تربیت اور لرننگ انہانسمنٹ پروگراموں سے متعلق ہیں۔ اُنہوں نے ان سے کہا کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر رکاوٹوں کو دور کریں اور محکمہ کو باقاعدہ پیش رفت رپورٹ پیش کریں۔ اُنہوںنے شفاف مانیٹرنگ میکانزم اور وقتاً فوقتاً آڈِٹ کو عملانے پرزور دیا تاکہ فنڈز لیپس کو روکا جا سکے اور فوائد نچلی سطح تک پہنچ سکیں۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ سکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے سماجی شراکت کو مضبوط کریں اور ہر اِنتظامی سطح پر جوابدہی کو فروغ دیں۔وزیرتعلیم نے حکومت کی جامع اور مساوی تعلیم پر مرکوز پالیسی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی خلا کو پُر کرنے، تدریسی عمل کو بہتر بنانے اور طالب علموں کی تعلیمی کارکردگی میں اضافہ کرنے بالخصوص دیہی و دور دراز علاقوں میں ضروری ہے۔اُنہوں نے حکومت کے تعلیمی شعبے میں اِصلاحی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یقین دِلایا کہ حکومت اَساتذہ کو بااختیار بنانے، کلاس روموں کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور تمام طالب علموں کے لئے مضبوط تعلیمی ماحول پیدا کرنے کے لئے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی۔وزیر موصوفہ نے کہا،’’تعلیم کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ فنڈز کا شفاف اِستعمال اور سکیموں کی مؤثر نگرانی سکولوں کو اعلیٰ معیار کے مراکزبننے کو یقینی بنائے گی۔‘‘اُنہوں نے محکمہ کے دیگر پہلوئوں کا جائزہ لیتے ہوئے چیف ایجوکیشن اَفسران کو سختی سے ہدایت دی کہ سکولی بچوں کو کسی بھی سرکاری تقریب میں بالخصوص تعلیمی سیشن یا اِمتحانی مدت کے دوران نہ بھیجا جائے جب تک متعلقہ ڈائریکٹر کی پیشگی منظوری نہ ہو۔وزیر تعلیم نے مزید ہدایت دی کہ چیف ایجوکیشن اَفسران اَپنے اَپنے اَضلاع میں اسمبلی حلقہ سطح پر جائزہ میٹنگ منعقد کریں اور متعلقہ تمام ڈیٹا تیار کریں تاکہ اَرکانِ اسمبلی کو بروقت معلومات فراہم کی جا سکیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرتے وقت مقامی ایم ایل ایز کو اعتماد میں لیا جائے۔