سری نگر//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے آج ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹی پالیسی۔ 2025 کی تیاری کے لئے طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پالیسی ایک اہم سنگ میل ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو مضبوط بنانا ہے۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم شانت منو، سپیشل سیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم اور ایچ اِی ڈی کے دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ دوران میٹنگ وزیر موصوفہ نے پالیسی کے مسودے پر تفصیلی گفتگو کی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ پالیسی جدید تقاضوں کے مطابق، عملی اور ترقی پسند ہوجو معیاری تعلیم کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ ساتھ مؤثر نگرانی و ضابطہ سازی کو بھی یقینی بنائے۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی ایک سازگار ماحول فراہم کرے تاکہ معروف پرائیویٹ ادارے جموں و کشمیر میں یونیورسٹیاں قائم کر سکیں اور تعلیمی شفافیت، جوابدہی اور دیانت داری کو برقرار رکھا جا سکے۔اُنہوں نے کہا،’’حکومت کا مقصد اعلیٰ تعلیم کا معیار بہتر بنانا، اِختراع کو فروغ دینا اور مقامی طلبأ کو معیار پر سمجھوتہ کئے بغیر عالمی معیار کی تعلیمی سہولیات فراہم کرنا ہے۔‘‘وزیر تعلیم نے اَفسران کو ہدایت دی کہ پالیسی کا مسودہ تمام شراکت داروں کی مشاورت سے تیار کیا جائے جن میں طلبأ ، اساتذہ، سول سوسائٹی اور دیگر ماہرین شامل ہوں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ریونیو، صنعت وحرفت، مالیات اور دیگر محکموں سے بھی مشورہ کیا جائے تاکہ پالیسی کی تشکیل جامع ہو۔اُنہوںنے افسران کو تاکید کی کہ وہ شفاف رہنما خطوط تیار کریں اور انہیں عوامی رائے کے لئے منظرِ عام پر لائیں اور جہاں ضرورت محسوس ہو وہاں مناسب ترامیم کریں۔وزیر موصوفہ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر پرائیویٹ یونیورسٹی پالیسی۔ 2025 ایک رہنما فریم ورک کے طور پر کام کرے جس کی مدد سے قابل اعتماد پرائیویٹ یونیورسٹیاں یونین ٹیریٹری میں قائم ہوں اور جموں و کشمیر کو ایک اُبھرتے ہوئے تعلیمی، اِختراعات اور سکل ڈیولپمنٹ کے مرکز کے طور پر ملک و بیرون ملک تسلیم کیا جائے۔










